نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے: بشیر بدر
اس انتخاب میں بشیر بدر کےایسے مشہور و مقبول اشعار شامل کیے گئے ہیں جن میں محبت، تنہائی، یاد، رشتوں کی نزاکت اور عصری احساسات جیسے مختلف جذبات و کیفیات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ ان کے اشعار سادگی، دلکشی اور گہرے انسانی تجربات کی ترجمانی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ہر عہد کے قارئین میں یکساں طور پر مقبول رہی ہے۔
-
موضوعات : روماناور 7 مزید
-
موضوعات : آرزواور 5 مزید
-
موضوعات : مسافراور 2 مزید
-
موضوعات : زندگیاور 1 مزید
-
موضوعات : فاصلہاور 1 مزید
-
موضوع : منزل
-
موضوعات : سوشل ڈسٹینسنگ شاعریاور 2 مزید
-
موضوعات : آدمیاور 2 مزید
-
موضوع : دل
-
موضوعات : الوداعاور 2 مزید
-
موضوعات : دوستیاور 2 مزید
-
موضوعات : اداسیاور 3 مزید
-
موضوعات : پارلیمنٹاور 3 مزید
-
موضوعات : روماناور 3 مزید
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
-
موضوعات : روماناور 3 مزید
-
موضوع : بچپن شاعری
-
موضوع : فساد
-
موضوعات : انساناور 1 مزید
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
-
موضوعات : دعااور 3 مزید
-
موضوعات : استقبالاور 1 مزید
-
موضوعات : الوداعاور 1 مزید
-
موضوعات : پانیاور 2 مزید
اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں
-
موضوعات : زندگیاور 2 مزید
میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزار لوں
-
موضوع : شام
-
موضوع : فاصلہ
-
موضوع : الوداع
-
موضوعات : شاماور 1 مزید
-
موضوع : اردو
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو
مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
-
موضوع : چائے