Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے: بشیر بدر

اس انتخاب میں بشیر بدر کےایسے مشہور و مقبول اشعار شامل کیے گئے ہیں جن میں محبت، تنہائی، یاد، رشتوں کی نزاکت اور عصری احساسات جیسے مختلف جذبات و کیفیات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ ان کے اشعار سادگی، دلکشی اور گہرے انسانی تجربات کی ترجمانی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ہر عہد کے قارئین میں یکساں طور پر مقبول رہی ہے۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

بشیر بدر

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

بڑی آرزو تھی ملاقات کی

بشیر بدر

ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے

جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

بشیر بدر

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی

کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

بشیر بدر

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

بشیر بدر

بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا

جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا

بشیر بدر

جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے

آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

بشیر بدر

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

بشیر بدر

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں

مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

بشیر بدر

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

بشیر بدر

تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا

مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

بشیر بدر

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا

اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

بشیر بدر

یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

بشیر بدر

خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے

بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

بشیر بدر

مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے

میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں

بشیر بدر

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے

جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

بشیر بدر

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

بشیر بدر

پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

بشیر بدر

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا

اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا

بشیر بدر

میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا

یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

بشیر بدر

اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں

پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

بشیر بدر

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

بشیر بدر

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے

بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

بشیر بدر

انہیں راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے

مجھے روک روک پوچھا ترا ہم سفر کہاں ہے

بشیر بدر

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

بشیر بدر

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے

تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

بشیر بدر

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

بشیر بدر

اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا

ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

بشیر بدر

چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا

بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی

بشیر بدر

اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں

انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں

بشیر بدر

عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں

میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے

بشیر بدر

آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا

کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

بشیر بدر

دل کی بستی پرانی دلی ہے

جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

بشیر بدر

لہجہ کہ جیسے صبح کی خوشبو اذان دے

جی چاہتا ہے میں تری آواز چوم لوں

بشیر بدر

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے

بشیر بدر

میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا

ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزار لوں

بشیر بدر

اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انسان کیا

مدتوں بعد مری آنکھوں میں آنسو آئے

بشیر بدر

بہت عجیب ہے یہ قربتوں کی دوری بھی

وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے کبھی نہ ملا

بشیر بدر

بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے

اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

بشیر بدر

یہ ایک پیڑ ہے آ اس سے مل کے رو لیں ہم

یہاں سے تیرے مرے راستے بدلتے ہیں

بشیر بدر

کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے

کسی کی آنکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے

بشیر بدر

پہلی بار نظروں نے چاند بولتے دیکھا

ہم جواب کیا دیتے کھو گئے سوالوں میں

بشیر بدر

وہ عطر دان سا لہجہ مرے بزرگوں کا

رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو

بشیر بدر

خدا کی اس کے گلے میں عجیب قدرت ہے

وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

بشیر بدر

عجیب رات تھی کل تم بھی آ کے لوٹ گئے

جب آ گئے تھے تو پل بھر ٹھہر گئے ہوتے

بشیر بدر

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو

مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو

بشیر بدر

اجازت ہو تو میں اک جھوٹ بولوں

مجھے دنیا سے نفرت ہو گئی ہے

بشیر بدر

گلے میں اس کے خدا کی عجیب برکت ہے

وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

بشیر بدر

ہنس پڑی شام کی اداس فضا

اس طرح چائے کی پیالی ہنسی

بشیر بدر
بولیے