سیاست پر طنز : اکبر الہ آبادی کے بیس شعر

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

اکبر الہ آبادی

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

اکبر الہ آبادی

کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا

جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

اکبر الہ آبادی

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ

رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

اکبر الہ آبادی

لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیں

سب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہے

اکبر الہ آبادی

سدھاریں شیخ کعبہ کو ہم انگلستان دیکھیں گے

وہ دیکھیں گھر خدا کا ہم خدا کی شان دیکھیں گے

اکبر الہ آبادی

نوکروں پر جو گزرتی ہے مجھے معلوم ہے

بس کرم کیجے مجھے بے کار رہنے دیجئے

اکبر الہ آبادی

اگر مذہب خلل انداز ہے ملکی مقاصد میں

تو شیخ و برہمن پنہاں رہیں دیر و مساجد میں

اکبر الہ آبادی

مسجد کا ہے خیال نہ پروائے چرچ ہے

جو کچھ ہے اب تو کالج و ٹیچر میں خرچ ہے

اکبر الہ آبادی

چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں

اخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے

اکبر الہ آبادی

عروج قومی زوال قومی خدا کی قدرت کے ہیں کرشمے

ہمیشہ رد و بدل کے اندر یہ امر پولٹیکل رہا ہے

اکبر الہ آبادی

مزہ ہے اسپیچ کا ڈنر میں خبر یہ چھپتی ہے پانیر میں

فلک کی گردش کے ساتھ ہی ساتھ کام یاروں کا چل رہا ہے

اکبر الہ آبادی

شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں

میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں

اکبر الہ آبادی

مولوی صاحب نہ چھوڑیں گے خدا گو بخش دے

گھیر ہی لیں گے پولس والے سزا ہو یا نہ ہو

اکبر الہ آبادی

کیوں سول سرجن کا آنا روکتا ہے ہم نشیں

اس میں ہے اک بات آنر کی شفا ہو یا نہ ہو

اکبر الہ آبادی

کھو گئی ہند کی فردوس نشانی اکبرؔ

کاش ہو جائے کوئی ملٹنؔ ثانی پیدا

اکبر الہ آبادی

کچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہ

آخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں تک

اکبر الہ آبادی

لیڈری چاہو تو لفظ قوم ہے مہماں نواز

گپ نویسوں کو اور اہل میز کو راضی کرو

اکبر الہ آبادی

ممبری سے آپ پر تو وارنش ہو جائے گی

قوم کی حالت میں کچھ اس سے جلا ہو یا نہ ہو

اکبر الہ آبادی