بقا اللہ بقاؔ کے 10 منتخب شعر

شیخ محمد بقاء اللہ بقاؔ :۔حافظ لطف اللہ خاں خوش نویس اکبر آبادی کے بیٹے تھے ، فارسی میں مرزا محمد فاخر مکینؔ اور ریختہ میں حاتمؔ کے شاگرد تھے طبیعت میں شوخی اور ظرافت تھی قصیدہ گوئی میں سوداؔ کے حریف تھے میرؔ اور سوداؔ پر بھی چوٹیں کر جاتے تھے ۔

عشق میں بو ہے کبریائی کی

عاشقی جس نے کی خدائی کی

بقا اللہ بقاؔ

عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں

داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں

بقا اللہ بقاؔ

اس بزم میں پوچھے نہ کوئی مجھ سے کہ کیا ہوں

جو شیشہ گرے سنگ پہ میں اس کی صدا ہوں

بقا اللہ بقاؔ

اپنی مرضی تو یہ ہے بندۂ بت ہو رہیے

آگے مرضی ہے خدا کی سو خدا ہی جانے

بقا اللہ بقاؔ

دیکھ آئینہ جو کہتا ہے کہ اللہ رے میں

اس کا میں دیکھنے والا ہوں بقاؔ واہ رے میں

بقا اللہ بقاؔ

خواہش سود تھی سودے میں محبت کے ولے

سر بسر اس میں زیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

بقا اللہ بقاؔ

الفت میں تری اے بت بے مہر و محبت

آیا ہمیں اک ہاتھ سے تالی کا بجانا

بقا اللہ بقاؔ

بلبل سے کہا گل نے کر ترک ملاقاتیں

غنچے نے گرہ باندھیں جو گل نے کہیں باتیں

بقا اللہ بقاؔ

سیلاب سے آنکھوں کے رہتے ہیں خرابے میں

ٹکڑے جو مرے دل کے بستے ہیں دو آبے میں

بقا اللہ بقاؔ

دیکھا تو ایک شعلے سے اے شیخ و برہمن

روشن ہیں شمع دیر و چراغ حرم بہم

بقا اللہ بقاؔ