باقی صدیقی کے 10 منتخب شعر

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل

تم زمانے کی راہ سے آئے

ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

باقی صدیقی

کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری

اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو

باقی صدیقی

ہر نئے حادثے پہ حیرانی

پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی

باقی صدیقی

باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاں

ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو

باقی صدیقی

زندگی کی بساط پر باقیؔ

موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی

ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے

بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

باقی صدیقی

رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے

برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں

باقی صدیقی

وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں

کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو

باقی صدیقی

ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی

تو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو

باقی صدیقی

خود فریبی سی خود فریبی ہے

پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

باقی صدیقی