بھارتیندو ہریش چندر کے 10 منتخب شعر

ہندی کی تجدید نو کے مبلغ ، کلاسکی طرز میں اپنی اردو غزل گوئی کے لیے مشہور

آ جائے نہ دل آپ کا بھی اور کسی پر

دیکھو مری جاں آنکھ لڑانا نہیں اچھا

بھارتیندو ہریش چندر

یہ چار دن کے تماشے ہیں آہ دنیا کے

رہا جہاں میں سکندر نہ اور نہ جم باقی

بھارتیندو ہریش چندر

نہ بوسہ لینے دیتے ہیں نہ لگتے ہیں گلے میرے

ابھی کم عمر ہیں ہر بات پر مجھ سے جھجکتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر

رخ روشن پہ اس کی گیسوئے شب گوں لٹکتے ہیں

قیامت ہے مسافر راستہ دن کو بھٹکتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر

کسی پہلو نہیں چین آتا ہے عشاق کو تیرے

تڑپتے ہیں فغاں کرتے ہیں اور کروٹ بدلتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر

جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہے

اسی کا سب ہے جلوا جو جہاں میں آشکارا ہے

بھارتیندو ہریش چندر

بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہو

نہیں کچھ خوف میرا بھی خدا ہے

بھارتیندو ہریش چندر

غافل اتنا حسن پہ غرہ دھیان کدھر ہے توبہ کر

آخر اک دن صورت یہ سب مٹی میں مل جائے گی

بھارتیندو ہریش چندر

مثل سچ ہے بشر کی قدر نعمت بعد ہوتی ہے

سنا ہے آج تک ہم کو بہت وہ یاد کرتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر

چھانی کہاں نہ خاک نہ پایا کہیں تمہیں

مٹی مری خراب عبث در بدر ہوئی

بھارتیندو ہریش چندر