برج نرائن چکبست کے 10 منتخب شعر

ممتاز قبل از جدید شاعر۔ راماین پر اپنی نظم کے لئے مشہور

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

چکبست برج نرائن

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا

نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا

چکبست برج نرائن

وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے

مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں

چکبست برج نرائن

اک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی

اس ایک مشت خاک کو غم دو جہاں کے ہیں

چکبست برج نرائن

گنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف

سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے

چکبست برج نرائن

ایک ساغر بھی عنایت نہ ہوا یاد رہے

ساقیا جاتے ہیں محفل تری آباد رہے

چکبست برج نرائن

مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کا

لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے

چکبست برج نرائن

اس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیں

مر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

چکبست برج نرائن

یہ کیسی بزم ہے اور کیسے اس کے ساقی ہیں

شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے

چکبست برج نرائن

کیا ہے فاش پردہ کفر و دیں کا اس قدر میں نے

کہ دشمن ہے برہمن اور عدو شیخ حرم میرا

چکبست برج نرائن