فانی بدایونی کے 10 منتخب شعر

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

فانی بدایونی

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

فانی بدایونی

سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے

کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ

فانی بدایونی

ہرمصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب

اس طرح گردش دوراں کو رلایا میں نے

فانی بدایونی

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

بات پہنچی تری جوانی تک

فانی بدایونی

بہلا نہ دل نہ تیرگیٔ شام غم گئی

یہ جانتا تو آگ لگاتا نہ گھر کو میں

فانی بدایونی

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے

موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے

فانی بدایونی

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں

ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

فانی بدایونی

دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم

بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے

فانی بدایونی

یارب تری رحمت سے مایوس نہیں فانیؔ

لیکن تری رحمت کی تاخیر کو کیا کہیے

فانی بدایونی