جوشش عظیم آبادی کے 10 منتخب شعر

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر، دلی اسکول کے طرز میں شاعری کے لیے مشہور

اس کے رخسار پر کہاں ہے زلف

شعلۂ حسن کا دھواں ہے زلف

جوشش عظیم آبادی

دھیان میں اس کے فنا ہو کر کوئی منہ دیکھ لے

دل وہ آئینہ نہیں جو ہر کوئی منہ دیکھ لے

جوشش عظیم آبادی

احوال دیکھ کر مری چشم پر آب کا

دریا سے آج ٹوٹ گیا دل حباب کا

جوشش عظیم آبادی

تجھ سے ہم بزم ہوں نصیب کہاں

تو کہاں اور میں غریب کہاں

جوشش عظیم آبادی

اللہ تا قیامت تجھ کو رکھے سلامت

کیا کیا ستم نہ دیکھے ہم نے ترے کرم سے

جوشش عظیم آبادی

چشم وحدت سے گر کوئی دیکھے

بت پرستی بھی حق پرستی ہے

جوشش عظیم آبادی

شرط انداز ہے اگر آئے

بات چھوٹی ہو یا بڑی منہ پر

جوشش عظیم آبادی

جو ترے سامنے آئے ہیں سو کم ٹھہرے ہیں

یہ ہمارا ہی کلیجہ ہے کہ ہم ٹھہرے ہیں

جوشش عظیم آبادی

جو آنکھوں میں پھرتا ہے پھرے آنکھوں کے آگے

آسان خدا کر دے یہ دشوار محبت

جوشش عظیم آبادی

وہ ماہ بھر کے جام مے ناب لے گیا

اک دم میں آفتاب کو مہتاب لے گیا

جوشش عظیم آبادی