مرزارضا برق کے 10 منتخب شعر

دبستان لکھنؤ کے ممتاز کلاسیکی شاعر، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے استاد

ہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو

یہی ہنر ہے کہ کوئی ہنر نہیں آتا

مرزارضا برق ؔ

اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

مرزارضا برق ؔ

دولت نہیں کام آتی جو تقدیر بری ہو

قارون کو بھی اپنا خزانا نہیں ملتا

مرزارضا برق ؔ

کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا

ہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتا

مرزارضا برق ؔ

نہ سکندر ہے نہ دارا ہے نہ قیصر ہے نہ جم

بے محل خاک میں ہیں قصر بنانے والے

مرزارضا برق ؔ

ہم تو اپنوں سے بھی بیگانہ ہوئے الفت میں

تم جو غیروں سے ملے تم کو نہ غیرت آئی

مرزارضا برق ؔ

بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیں

ان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیں

مرزارضا برق ؔ

اگر حیات ہے دیکھیں گے ایک دن دیدار

کہ ماہ عید بھی آخر ہے ان مہینوں میں

مرزارضا برق ؔ

اتنا تو جذب عشق نے بارے اثر کیا

اس کو بھی اب ملال ہے میرے ملال کا

مرزارضا برق ؔ

گیا شباب نہ پیغام وصل یار آیا

جلا دو کاٹ کے اس نخل میں نہ بار آیا

مرزارضا برق ؔ