مصطفیٰ خاں شیفتہ کے 10 منتخب شعر

ریاست جهانگیرآباد کے نواب تھے

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

مصطفیٰ خاں شیفتہ

اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ

یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا

مصطفیٰ خاں شیفتہ

جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ

کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے

those lips that others get to kiss alas on them I see

not even curses or abuse are now assigned for me

those lips that others get to kiss alas on them I see

not even curses or abuse are now assigned for me

مصطفیٰ خاں شیفتہ

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

مصطفیٰ خاں شیفتہ

شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ

اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

مصطفیٰ خاں شیفتہ

بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر

یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے

مصطفیٰ خاں شیفتہ

فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ

بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے

مصطفیٰ خاں شیفتہ

کس لیے لطف کی باتیں ہیں پھر

کیا کوئی اور ستم یاد آیا

مصطفیٰ خاں شیفتہ

آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہؔ

طاعت میں کچھ مزہ ہے نہ لذت گناہ میں

مصطفیٰ خاں شیفتہ

دل بد خو کی کسی طرح رعونت کم ہو

چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو

مصطفیٰ خاں شیفتہ