قیصر الجعفری کے 10 منتخب شعر

اپنی غزل " دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے " کے لئے مشہور

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

قیصر الجعفری

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں

مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

قیصر الجعفری

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے

ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

قیصر الجعفری

زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے

میں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں

قیصر الجعفری

ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی

ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

قیصر الجعفری

تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر

کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے

قیصر الجعفری

یہ وقت بند دریچوں پہ لکھ گیا قیصرؔ

میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا

قیصر الجعفری

میں زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے

یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا نہ ہوا

قیصر الجعفری

ساون ایک مہینے قیصرؔ آنسو جیون بھر

ان آنکھوں کے آگے بادل بے اوقات لگے

قیصر الجعفری

رکھی نہ زندگی نے مری مفلسی کی شرم

چادر بنا کے راہ میں پھیلا گئی مجھے

قیصر الجعفری