ساحر دہلوی کے 10 منتخب شعر

پنڈت امر ناتھ ساحر 1863 کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔ زوال پذیر مغلیہ سلطنت اور دہلی کی مخدوش سماجی ، سیاسی اور تہذیبی فضا میں ان کی پرورش ہوئی جس کے اثر سے ان کا طبعی اور فکری میلان تصوف کی طرف ہوگیا ۔ ساحر کی شاعری حقائق ومعارف ، تصوف اور عرفان کے رنگوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ساحر اردو اور فارسی کے ساتھ سنسکرت کے بھی جید عالم تھے ، یوگ ابھیاس اور ویدانت پر ان کی گہری نظر تھی ۔ مطالعے کی اس نہج کے اثرات بھی ان کی شاعری میں نظر آتے ہیں ۔ ساحر کا اردو دیوان ’’ کفر عشق ‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور فارسی مجموعہ کلام ’’ چراغ معرفت ‘‘ کے نام سے ۔ 1962 میں ساحر کا انتقال ہوا ۔

یوں تو ہر دین میں ہے صاحب ایماں ہونا

ہم کو اک بت نے سکھایا ہے مسلماں ہونا

ساحر دہلوی

ازل سے ہم نفسی ہے جو جان جاں سے ہمیں

پیام دم بدم آتا ہے لا مکاں سے ہمیں

ساحر دہلوی

مل ملا کے دونوں نے دل کو کر دیا برباد

حسن نے کیا بے خود عشق نے کیا آزاد

ساحر دہلوی

جو لا مذہب ہو اس کو ملت و مشرب سے کیا مطلب

مرا مشرب ہے رندی رند کو مذہب سے کیا مطلب

ساحر دہلوی

میں دیوانہ ہوں اور دیر و حرم سے مجھ کو وحشت ہے

پڑی رہنے دو میرے پاؤں میں زنجیر مے خانہ

ساحر دہلوی

عہد‌ میثاق کا لازم ہے ادب اے واعظ

ہے یہ پیمان وفا رشتۂ زنار نہ توڑ

ساحر دہلوی

اے پری رو ترے دیوانے کا ایماں کیا ہے

اک نگاہ غلط انداز پہ قرباں ہونا

ساحر دہلوی

تھا انا الحق لب منصور پہ کیا آپ سے آپ

تھا جو پردے میں چھپا بول اٹھا آپ سے آپ

ساحر دہلوی

غم موجود غلط اور غم فردا باطل

راحت اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں

ساحر دہلوی

قلزم فکر میں ہے کشتئ ایماں سالم

نا خدا حسن ہے اور عشق ہے لنگر اپنا

ساحر دہلوی