سالک لکھنوی کے 10 منتخب شعر

جو تیری بزم سے اٹھا وہ اس طرح اٹھا

کسی کی آنکھ میں آنسو کسی کے دامن میں

سالک لکھنوی

کہی کسی سے نہ روداد زندگی میں نے

گزار دینے کی شے تھی گزار دی میں نے

سالک لکھنوی

چاہا تھا ٹھوکروں میں گزر جائے زندگی

لوگوں نے سنگ راہ سمجھ کر ہٹا دیا

سالک لکھنوی

ناخدا ڈوبنے والوں کی طرف مڑ کے نہ دیکھ

نہ کریں گے نہ کناروں کی تمنا کی ہے

سالک لکھنوی

بہار گلستاں ہم کو نہ پہچانے تعجب ہے

گلوں کے رخ پہ چھڑکا ہے بہت خون جگر ہم نے

سالک لکھنوی

مے خانۂ ہستی میں ساقی ہم دونوں ہی مجرم ہیں شاید

خم تو نے بچا کے رکھے تھے پیمانے میں نے توڑے ہیں

سالک لکھنوی

نگاہ مہر کہاں کی وہ برہمی بھی گئی

میں دوستی کو جو رویا تو دشمنی بھی گئی

سالک لکھنوی

نظر سے دیکھ تو ساقی اک آئینہ بنایا ہے

شکستہ شیشہ و ساغر کے ٹکڑے جوڑ کر ہم نے

سالک لکھنوی

مال و زر اہل دول سامنے یوں گنتے ہیں

ہم فقیروں نے نہ کچھ صرف کیا ہو جیسے

سالک لکھنوی

دھواں دیتا ہے دامان محبت

ان آنکھوں سے کوئی آنسو گرا ہے

سالک لکھنوی