ثاقب لکھنوی کے 10 منتخب شعر

ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر ، اپنے شعر ’زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ۔۔۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

ثاقب لکھنوی

آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں

اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے

ثاقب لکھنوی

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن

زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

بوئے گل پھولوں میں رہتی تھی مگر رہ نہ سکی

میں تو کانٹوں میں رہا اور پریشاں نہ ہوا

ثاقب لکھنوی

سننے والے رو دئیے سن کر مریض غم کا حال

دیکھنے والے ترس کھا کر دعا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے

سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

کس نظر سے آپ نے دیکھا دل مجروح کو

زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

سونے والوں کو کیا خبر اے ہجر

کیا ہوا ایک شب میں کیا نہ ہوا

ثاقب لکھنوی

اے چمن والو چمن میں یوں گزارا چاہئے

باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی

ثاقب لکھنوی

اس کے سننے کے لئے جمع ہوا ہے محشر

رہ گیا تھا جو فسانہ مری رسوائی کا

ثاقب لکھنوی