سیماب اکبرآبادی کے 10 منتخب شعر

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، سیکڑوں شاگردوں کے استاد

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

سیماب اکبرآبادی

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں

اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

سیماب اکبرآبادی

روز کہتا ہوں کہ اب ان کو نہ دیکھوں گا کبھی

روز اس کوچے میں اک کام نکل آتا ہے

سیماب اکبرآبادی

تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں

نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی

سیماب اکبرآبادی

ماضیٔ مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ

زندگی کی فرصت باقی سے کوئی کام لے

سیماب اکبرآبادی

وہ دنیا تھی جہاں تم بند کرتے تھے زباں میری

یہ محشر ہے یہاں سننی پڑے گی داستاں میری

سیماب اکبرآبادی

ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو

میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے

سیماب اکبرآبادی

خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا

وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی

سیماب اکبرآبادی

کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے

جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

سیماب اکبرآبادی

محبت میں اک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر

ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر

سیماب اکبرآبادی