ٹرو لو شاعری

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

ولی محمد ولی

عشق اداسی کے پیغام تو لاتا رہتا ہے دن رات

لیکن ہم کو خوش رہنے کی عادت بہت زیادہ ہے

ظفر اقبال

اتنی تو دید عشق کی تاثیر دیکھیے

جس سمت دیکھیے تری تصویر دیکھیے

وزیر علی صبا لکھنؤی

عشق جب تک نہ آس پاس رہا

حسن تنہا رہا اداس رہا

ظہیر کاشمیری

شغل بہتر ہے عشق بازی کا

کیا حقیقی و کیا مجازی کا

ولی محمد ولی

ہمارے عشق سے درد جہاں عبارت ہے

ہمارا عشق ہوس سے بلند و بالا ہے

ظہیر کاشمیری

سینے میں مرے داغ غم عشق نبی ہے

اک گوہر نایاب مرے ہاتھ لگا ہے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

ہمیں سے انجمن عشق معتبر ٹھہری

ہمیں کو سونپی گئی غم کی پاسبانی بھی

زاہدہ زیدی

جو رنج عشق سے فارغ ہو اس کو دل نہیں کہتے

جو موجوں سے نہ ٹکرائے اسے ساحل نہیں کہتے

واصف دہلوی

عشق کیا شے ہے حسن ہے کیا چیز

کچھ ادھر کی ہے کچھ ادھر کی آگ

ظہیرؔ دہلوی
بولیے