असमाँ मेहराब

शम्सुर रहमान फ़ारूक़ी

शब ख़ून किताब घर, इलाहाबाद
1996 | अन्य

पुस्तक: परिचय

परिचय

"آسماں محراب" شمس الرحمن فاروقی صاحب کا چوتھا شعری مجموعہ ہے۔اس مجموعہ میں 1976 سے لیکر 1996 تک کے لکھے ہوئے کلام کا انتخاب شامل ہے۔اس کتاب میں شاعر کی نامکمل سوانح حیات کے تین ابواب ،ایک قصیدہ شہر آشوب،دیگر زبانوں سے ترجمہ کی ہوئی بیس نظمیں اور خود فاروقی صاحب کی لکھی ہوئی 17 نظمیں ، 43 غزلیں ، 35 رباعیاں ،قطع تاریخ وفات، قطع تاریخ بنائے خانہ اور بچوں کے لیے لکھی گئی چار نظمیں شامل ہیں۔اس مجموعہ کا انتخاب در اصل پروفیسر نیر مسعود نے کیا تھا اور انھوں نے ہی اس کو مرتب بھی کیا ۔مجموعہ کا نام بھی فاروقی صاحب کی ایک غزل کے ایک مصرعے سے لیا ہے"زمیں ہے فرش تو ہےقوس آسماں محراب"۔اس مجموعہ کی تخلیقات سے نہ صرف میر بلکہ فارسی اور اردو کے کلاسکی شعرا ء سے ان کی غیر معمولی عقیدت کا اندازہ ہوتا ہے ، حواشی پر جا بجا میر، سراج ، درد ، حاتم اور مصحفی وغیرہ کے حوالے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے فارسی اور اردو کی شعری روایت سےکس طرح استفادہ کیا ہے۔اس مجموعہ کی پہلی نظم "نامکمل سوانح حیات" 115 مصرعوں پر مشتمل ہے ،جسے تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔یہ پوری نظم ایک ذۃنی واردات اور شاعر کے باطنی تجربات کا آئینہ خانہ ہے ۔اس مجموعہ میں شامل قصیدہ "شہر آشوب" میں شاعروں ،ادیبوں ، اساتذہ، اور ناقدوں کے اخلاق اور علمی زوال پر ہجویہ رنگ میں رنج اور غصے کا اظہار کیا گیا ہے ۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम