غزل نما

ادا جعفری

ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
2012 | مزید

مصنف: تعارف

ادا جعفری

ادا جعفری

جدید شعر و ادب کے معماروں میں ادا جعفری اک امتیازی مقام کی مالک ہیں ۔ ان کو اردو شاعری کی خاتون اوّل کہاجاتا ہے کیونکہ ان کی شاعری نے بیسویں صدی کی  وسطی  دہائیوں میں بہ اعتبار رہنمائی اور اثر پپذیری اردو کی خاتون شعراء کے حق میں وہی کردار ادا کیا جو اٹھارہویں صدی میں ولی دکنی نے عام شعراء کے حق میں ادا کیا تھا ۔انھوں نے اپنے بعد آنے والی شاعرات کشور ناہید،پروین شاکر اور فہمیدہ ریاض وغیرہ کے لئے شاعری کا وہ راستہ ہموار کیا جس پر چل کر ان لوگوں نے  اردو میں خواتین کی شاعری  کو عالمی معیارات تک پہنچایا۔

ادا جعفری  روائتی ہونے کے باوجود جدید ہیں۔ بدلتی ہوئی دنیا  اور اس کے سماجی و جذباتی تقاضوں کو اپنی روایت کے مثبت اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا  ادا جعفری کا خاص کارنامہ ہے۔ انھوں نے تہذیب کی شایستگی کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا  شایستگی،دلاویزی اور صدا آفرینی کی مرکب خصوصیت ان کے شعری اور تخلیقی جوہر کو منفرد بناتی ہے۔ وہ شاعرات میں شعور و کیفیت کے اک نئے سلسلہ کی پیشرو تھیں ۔احتجاج کی راہوں میں بڑھتے ہوئے  بھی وہ ہوا کی ان خوشبوؤں کی اسیر رہی ہیں جن میں گزشہ موسم بہار کی کے پھولوں کی مہک باقی  ہے۔ انھوں نے اک خاتون کی حیثیت سے انسان کی بعض ایسی نفسیاتی اور جذباتی کیفیا ت کی نقاب کشائی کی ہے جو کسی مرد شاعر سے ممکن نہیں تھا۔اس کے ساتھ انھوں نے نسوانی فضا سے آگے بڑھ کر اور ذات کے حصار سے باہر نکل کرعام انسانوں کے مسائل  کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔وہ نسوانیت کی نرمی کو  اپنی امتیازی خوبی نہیں سمجھتیں۔انھوں نےے بطور شاعر کوئی رعایت نہیں چاہی۔وہ سب کے لئے اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ان کے یہاں مرد،عورت اور ایشیائی یاافریقی کا امتیاز نہیں۔ادا جعفری کی شاعری بندھے ٹکے تنقیدی اصولوں کے دائرے میں قید نہیں ہو پاتی۔اسے سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لئےفکر کی صحتمندی اوراور مزاج کی شایستگی ضروری ہے۔ادا جعفری خارجی  معیارات فکر سے زیادہ نجی تجربے سے حاصل کئے گئے شعور پر بھروسہ کرتی ہیں ۔شخصیت کی کلّیت   اور سالمیت کے ساتھ ساتھ احساس کی نزاکت اور اس میں دکھ کی دھیمی دھیمی آنچ ان کی انفرادیت ہے۔

ادا جعفری کا اصل نام عزیز جہاں تھا،شادی کے بعد انھوں نے ادا جعفری کے نام سے لکھنا شروع کیا۔ وہ 1924ء میں بدایوں کے اک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئیں۔جب ان کی عمر تین برس تھی ان کے والد کا انتقال ہو گیا  ۔ان کا بچپن نانہال میں گزرا۔والد کی شفقت سے محرومی کا ان کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ان کی تعلیم گھر  پر  ٹیوٹر رکھ کر کرائی گئی۔انھوں نے اردو فارسی اور انگریزی میں مہارت حاصل کی۔باقاعدہ کالج میں جا کر تعلیم حاصل نہ کر پانے کا ان کو ہمیشہ ملال رہا۔ان کو بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ نو سال کی عمر میں انھوں نے اپنا پہلا شعر کہا اور ڈرتے ڈرتے ماں کو سنایا تو انھوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ ان کی ابتدائی غزلیں اور نظمیں   1940ء کے آس پاس  اختر شیرانی کے رسالہ "رومان" کے علاوہ اس وقت کے معیاری ادبی رسالوں "شاہکار"اور "ادب لطیف" وغیرہ میں شائع ہونے لگیں اور ادبی دنیا ان کے نام سے  متعارف ہو گئی۔اس وقت بھی ان کی شاعری میں  عام نسائی شاعری سے انحراف موجود تھا۔ان سے پہلے کی شاعرات نے فکری یا ہیئتی اجتہاد  کا حوصلہ نہیں دکھایا تھا۔1936 میں  اردو ادب میں شروع ہونے والی نئی تحریک نے  نئے سماجی رشتوں کا احساس اور نیا تاریخی شعور پیدا کیا تو    ادا  جعفری  بھی اس سے متاثر ہوئیں۔وہ علی الاعلان  ترقی پسند تحریک سے وابستہ نہیں ہوئیں  لیکن انھوں نے فرسودگی اور  قدامت کی بیجا بندشوں سے خود کو آزاد کر لیا۔1947ء میں ان کی شادی برٹش انڈیا کے اک اعلی افسر نور الحسن جعفری سے ہو گئی۔ملک کے بٹوارے کے بعد  وہ اپاکستانی ہو گئے اور 1948ء میں ادا جعفری بھی پاکستان چلی گئیں۔ جن علاقوں میں پاکستان بنا  ان میں سماجی بندشیں ہندوستانی علاقوں کے مقابلہ میں سخت تھیں اور وہاں قابل ذکر خاتون ادیبوں  کے ابھرنے کے امکانا ت نہیں تھے۔ادا جعفری کی پاکستان میں اچھی آؤ بھگت ہوئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ افسانہ کے چار بڑے ناموں،منٹو،عصمت،بیدی اور کرشن چند میں سے عصمت کو چھوڑ کر سب کا تعلق اس علاقے سے تھا جو اب پاکستان ہے جبکہ شاعرات میں ادا جعفری کے  ساتھ  ساتھ پرویں شاکر،کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض سب کی جڑیں ہندوستان میں ہیں۔ادا جعفری کا پہلا مجموعہ کلام 1950 میں منظر عام پر آیا اور اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔اس کے بعد ان کے کئی مجموعے  شائع ہوئے اور ادا جعفری نے شاعرات میں اپنی ممتاز جگہ بنا لی۔ انھوں نے جاپانی صنف سخن ہائکو میں بھی طبع آزمائی کی اور افسانے بھی لکھے۔انھوں نے اپنی سوانح حیات "جو رہی سو بیخبری رہی" کے نام سے شائع کرائی اس کے علاوہ انھوں نے قدیم اردو شعراء کے حالات بھی قلمبند کئے۔ادا جعفری نے اک بھرپور مطمئن زندگی گزاری۔شوہر کے ساتھ دنیا کے مختلف ملکوں کی سیر کی اور ان کے سیاسی سماجی اور تہذیبی  حالت کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ۔  نوے سال کی زندگی گزار کر 2014 میں ان کا انتقال ہوا۔

ادا جعفری مھض اک جدید یا نسوانی لہجہ کی شاعرہ نہیں ہیں۔وہ اپنے تخلیقی عمل میں اپنے  ماحول اور گردو پیش سے غافل نہیں رہیں ان کی نظمیں ان کے سیاسی اور معاشرتی شعور کی عکاس ہیں۔ ان نظموں میں دردمندی اور حب الوطنی نمایاں ہے۔جبکہ غزلوں میں تازگی،شعور کی پختگی  اور فن پر مظبوط گرفت نمایاں ہے۔وہ ذاتی اور نجی مسائل کو مجموعی انسانی مسائل کے اک پرتو کے طور پپر دیکھتی ہیں۔ان کی شاعری شخصی سے زیادہ سماجی ہے۔ان کی آواز میں ،بہرحال،رنج و الم،خواب و حقیقت،نشاط و مسرت، کی اک اپنی دنیا بھی ہے  وہ ہر پیرایہ ء اظہار میں سر تا سر شاعرہ رہی ہیں زندگی کے اثبات کا احساس اور خوابوں کو حقائق کے آئینہ میں سنوارنے  کا طور ادا جعفری کا طور ہے۔اور ان کا فن نئی اردو شاعری  کی تاریخ کا اک درخشاں باب ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب