آج کے منتخب ۵ شعر

کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگے

اس سے رشتہ بھی رہا وہم و گماں سے آگے

کبیر اجمل

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

لال چند فلک
  • شیئر کیجیے

دانستہ ہم نے اپنے سبھی غم چھپا لیے

پوچھا کسی نے حال تو بس مسکرا دئیے

آفاق صدیقی
  • شیئر کیجیے

بس اک جھجک ہے یہی حال دل سنانے میں

کہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میں

کیفی اعظمی
  • شیئر کیجیے

بہتر دنوں کی آس لگاتے ہوئے حبیبؔ

ہم بہترین دن بھی گنواتے چلے گئے

حبیب امروہوی
  • شیئر کیجیے
آج کا لفظ

تفریق

  • tafriiq
  • तफ़रीक़

معنی

separation

بہت آسان ہے مشترکہ دلوں میں تفریق

بات تو جب ہے کہ بچھڑوں کو ملایا جائے

لغت

Quiz A collection of interesting questions related to Urdu poetry, prose and literary history. Play Rekhta Quiz and check your knowledge about Urdu!

The famous dailogue, 'aaj ki raat bachen ge to sahar dekhen ge' belongs to which movie?
Start Today’s Quiz

Rekhta App : World’s largest collection of Urdu poetry

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جوشؔ

جوش ملیح آبادی نے چند برس پونا میں شالیمار اسٹوڈیوز میں گزارے اور وہاں چند فلموں کے لئے گانے لکھے۔ 1944میں ریلیز ہوئ  مشہور فلم "من کی جیت" جو مشہور انگریزی مصنف تھامس ہارڈی کے ناول"  Tess of the d'Urbervilles "  سے ماخوذ  تھی اور ڈبلیو زیڈ احمد کی ہدایت کاری میں بنی تھی، اس فلم کے سات میں سے چھ گانے جوش نے لکھے تھے۔
  اس فلم میں ان کا ایک  گیت زہرا بائ انبالے والی کا گایا ہوا بہت مشہور یوا تھا۔ 
  " مورے جبنا کا دیکھو ابھار "حکومت وقت کو اس کا مکھڑا فحش لگا تھا اور اس گیت کو آل انڈیا ریڈیو سے نشر کرنے پر پابندی عائد کردی گئ تھی۔ حالانکہ اس گیت میں محبوبہ کے حسن کی مثالیں بہت انوکھی تھیں : 
جیسے بھونروں کی جھوم
 جیسے ساون کی دھوم 
جیسے ساگر کی بھور 
جیسے اڑتا چکور 
جیسے ندی کی موج
 جیسے تُرکوں کی فوج
 بالکل اسی انداز پر برسوں بعد جاوید اختر نے فلم " 1942 اے لو اسٹوری" کےلئے گانا لکھا تھا "ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا "
جوش نے جتنی بھی فلموں کے لئے گانے لکھے وہ کبھی پہلے سے ترتیب دی ہوئ  موسیقی کے مطابق نہیں لکھے بلکہ ہمیشہ فلم کی سچوئیشن کے مطابق تحریر کئے۔ ان فلموں کے ہدایت کار اور موسیقار کی ذمہ داری تھی کہ وہ انھیں موسیقی  میں ڈھالیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

بغیر ترنم کے شاعری سنانے کو "تحت الفظ" کہا جاتا ہے جس کو "تحت میں پڑھنا " بھی کہتے ہیں۔  شاعری کو ترنم سے پیش کیا جائے تو طرز اور پڑھنے والے کی آواز سامعین کو زیادہ تر متوجہ رکھتی ہے۔ جبکہ تحت اللفظ میں شوکت الفاظ، آواز کے اتار چڑھاو سے شاعری کا پورا لطف آتا ہے۔ مشاعروں میں غزلیں اور نظمیں تحت میں بخوبی  پڑھی ہی جاتی ہیں لیکن مجلس عزا میں تحت اللفظ مرثیہ پڑھنے والوں نے تو اسے ایک خآص ڈرامائ انداز کا فن بنادیا ہے۔  مشیور مرثیہ گو میر انیس کے ایک ہم عصر مشہور شاعر میر انیس کی مرثیہ گوئ کے قائل نہ تھے، انھوں نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ اتفاقاً انیس کی مجلس میں شرکت ہوئی مرثیے کے دوسرے ہی بند کی  بیت: 
ساتوں جہنم آتش فرقت میں جلتے ہیں
شعلے تری تلاش میں باہر نکلتے ہیں
" انیس نے اس انداز سے پڑھی کہ مجھے شعلے بھڑکتے ہوئے دکھائی دینے لگے اور میں ان کا پڑھنا سننے میں ایسا محو ہوا کہ تن بدن کا ہوش نہ رہا " 
جب نئی شاعری بصورت آزاد نظم  نمودار ہوئی تو مشاعروں میں اس کو سننے کے لیے کوئی آمادہ نظر نہیں آتا تھا۔ مشہور ایکٹر اور براڈکاسٹر ضیا محی الدین نے ن م راشد کی نظمیں مختلف تقریبوں میں سنانے کا تجربہ کیا۔ انھوں نے کچھ اس طرح یہ نظمیں سنائیں کہ جن سامعین کے لیے یہ نظمیں مبہم اور لایعنی اور شعری کیفیت سے دور تھیں وہ بھی اس پڑھت کے سحر میں آ گئے اور انھیں ان نظموں میں شاعری بھی نظر آرہی تھی اور معنی بھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

افتخار

بمبئ سے شائع ہونے والا اردو  ماہنامہ "شاعر" جو 1930 میں آگرہ سے پہلی بار شائع ہوا تھا آج تک جاری ہے۔ افتخار امام صدیقی (1947. 2021)  جو اس تاریخ ساز خالص ادبی  ماہنامے کے بانی  سیماب اکبر آبادی کے پوتے  تھے، پچھلی کئ دہائیوں سے اس رسالے  کو تمام مالی پریشانیوں کے باوجود بمبئ کی ایک چھوٹی سی کھولی سے شائع کر رہے تھے جو ان کا دفتر اور خاندان کی رہائش گاہ بھی تھی۔ "شاعر"  کے خاص نمبر ادبی تحقیق کرنے والوں کے لئے بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ 
افتخارامام صدیقی شاعری اور نثر دونوں پر دسترس رکھتے تھے۔ انھوں نے100 ادبی شخصیات کے انٹرویو لئے تھے۔ افتخارامام بہت خوش گلو شاعر بھی تھےایک زمانے میں مشاعروں میں بہت مشہور تھے۔ بچپن سے انہیں گانے کا شوق تھا، ان کے والد کے ایک شاگرد غزل سنگر تھے ان سے کچھ  موسیقی سیکھی بھی تھی ابتدا میں فلمی گانے اور غزلیں گایا کرتے تھے۔ ان کے دادا سیماب اکبرآبادی ان سے غزلیں سنا کرتے تھے۔ فلم "ارتھ" میں چترا سنگھ کی آواز میں ان کی غزل "تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائےگا" کافی مشہور ہوئ تھی۔ کئ اور گلو کاروں نے بھی ان کی غزلیں گائ ہیں۔
 کسی مشاعرے سے واپسی کے وقت جبلپور میں آپ ایک حادثے سے دوچار ہوئے اور اپاہج ہو گئے لیکن اپنے بھائ ناظر نعمان صدیقی کی ادرات میں ماہنامہ" شاعر" کو پچاس سال سے جاری رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے شادی نہیں کی تھی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جگر

جگرمرادابادی کی طبیعت میں بہت افتادگی تھی۔ مراداباد، آگرہ، اور پھر گونڈہ میں زندگی کے بیشتر ایام گزرے۔ مشاعروں کے سلسلے میں پورے ہندوستان کا دورہ کیا، اور اپنے وقت کے مقبول ترین شاعر رہے۔ کہا جاتا ہے اس وقت مشاعروں میں ان کا اعزازیہ 500 روپیہ ہوتا تھا۔ ان سب کے باوجود ان کی ازدواجی زندگی بہت بکھری ہوئی تھی۔ شراب نوشی اور آوارگی کی کثرت سے ان کی بیوی بہت بد دل ہوتی تھیں۔ آخر کار اصغر گونڈوی کے مشورے پر اپنی بیوی نسیم کو طلاق دے دی اور پھر اصغر گونڈوی نے ان سے شادی کر لی۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

فیاض

آج جانے کی ضد نا کرو "ایک بے حد مقبول و معروف غزل ہے۔ فیاض ہاشمی کی لکھی اس غزل کو سب سے پہلے حبیب ولی محمد نے پاکستانی فلم "بادل اور بجلی" (1979) کے لیے گایا تھا مگر بعد میں ملکہ غزل فریدہ خانم نے اس غزل کو گا کر امر کر دیا۔  فیاض ہاشمی کے ایک دوست راوی ہیں کہ اس غزل کے کچھ اشعار انھوں نے کلکتہ میں زمانہ طالب علمی میں لکھے تھے جو ان کے پہلے لیکن ناکام عشق کی دین تھے،  وہ شاعری کے علاوہ موسیقی میں بھی شُد بُد رکھتے تھے۔ ان کی اس خصوصیت کی بنا پر کم عمری میں ہی کلکتہ میں  H.M.V  گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے اور وہاں متعدد گانے لکھے۔1935ء میں وہ ہندوستان میں فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے اور وہاں بھی بہت شہرت پائ۔
  انہوں نے فلمی گیتوں میں اردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا رنگ بھرا جس کی وجہ سے گیتوں کو لازوال شہرت عطا کی۔ مہاتما گاندھی نے فیاض ہاشمی کے نغمے سُن کر کہا تھا کہ: ’’اگر فیاض جیسے چند شاعر اور پیدا ہو جائیں تو اردو ہندی کا جھگڑا مِٹ جائے !‘‘۔ اس وقت کے تمام ممتاز گلوکاروں نے ان کے لکھے  سیکڑوں گانے گائے۔  پنکج ملک کا  گایا ہوا مشہور گانا: 
"  یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا۔"
بھی ان کی ہی تخلیق ہے۔ گانے کی دھن بناتے وقت اگر کہیں کوئی میوزک ڈائریکٹر ان سے کہتا کہ فیاض صاحب بول صحیح نہیں بیٹھ رہے، آپ مصرعے میں تبدیلی کر دیجئے تو فوراً وہ مصرع خود گا کر بتاتے کہ دھن یوں بنے گی تومصرعے فٹ ہوں گے اور واقعی مصرعوں کی تبدیلی کے بغیر گانا ریکارڈ ہو جاتا۔

یاد

برسی

پاکستانی شاعر، اقبال کے منتخب فارسی کلام کا منظوم ترجمہ بھی کیا

ہے واقعہ کچھ اور روایت کچھ اور ہے

ہے واقعہ کچھ اور روایت کچھ اور ہے

پوری غزل دیکھیں

ریختہ بلاگ

پسندیدہ ویڈیو
This video is playing from YouTube

کیفی اعظمی

Kaifi Azmi Ki Nazm : Nazrana | Aaj Ki Raat Jo Meri Tarah Tanha Hai | @Rekhta

ویڈیو شیئر کیجیے

ای-کتابیں

اقبال دلہن

بشیر الدین احمد دہلوی 

1908 اخلاقی کہانی

کلیات انور شعور

انور شعور 

2015 کلیات

مغل تہذیب

محبوب اللہ مجیب 

1965

اودھوت کا ترانہ

 

1958 نظم

شمارہ نمبر۔002

ڈاکٹر محمد حسن 

1970 عصری ادب

مزید ای- کتابیں