آج کے منتخب ۵ شعر

اردو کراس ورڈ

اردو کا پہلا آن لائن کراس ورڈ معمہ۔ زبان و ادب سے متعلق دلچسپ معمے حل کیجیے اور اپنی معلومات میں اضافہ کیجیے۔

معمہ حل کیجیے
آج کا لفظ

وضاحت

  • vazaahat
  • वज़ाहत

معنی

Clarification/Refinement

خبر مجھ کو نہیں میں جسم ہوں یا کوئی سایا ہوں

ذرا اس کی وضاحت دھوپ کی چادر پہ لکھ دینا

لغت

Quiz A collection of interesting questions related to Urdu poetry, prose and literary history. Play Rekhta Quiz and check your knowledge about Urdu!

علامہ اقبال کے خطبات کے مجموعے کا کیا نام ہے؟
Start Today’s Quiz
app bg1 app bg2

Rekhta App : World’s largest collection of Urdu poetry

کیا آپ کو معلوم ہے؟


ایک ضرب المثل ہے "ہاتھ کنگن کو آرسی کیا'' اس کا مطلب تو بعد میں سمجھیں گے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آرسی بڑی سی انگوٹھی ہوتی تھی، جو پچھلے زمانے میں عورتیں اپنے ہاتھ کے انگوٹھے میں پہنا کرتی تھیں۔ اس میں نگوں کے بیچ  ایک گول آئینہ لگا ہوتا تھا۔ عورتیں اس  میں دیکھ کر اپنا سنگھار درست کر لیا  کرتی تھیں۔
آرسی پر بہت سے شعر ہیں 
 آئینہ سامنے نہ سہی آرسی تو ہے
تم اپنے مسکرانے کا انداز دیکھنا
ہاتھ کنگن کو آرسی کیا'' اس کا مطلب ہے  کہ ہاتھ میں  پہنے ہوئے کنگن کو دیکھنے کے لئے آرسی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ تو نظروں  کے سامنے ہی ہے۔  یہ  ضرب المثل ایسے موقع پر بولی جاتی ہے  جب کوئی بات ظاہر اور بالکل سامنے کی ہو، جس کو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو۔
یہ کہاوت بھی بہت مشہور ہے 
" ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، پڑھے لکھے کو فارسی کیا"

شادیوں میں ایک رسم بھی ہوتی ہے جو "آرسی مصحف کہلاتی ہے ۔" جس میں دولہا اور دلہن  کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کے سر پر ایک دوشالہ یا دوپٹہ ڈال دیا جاتا ہے اور بیچ میں آٙئینہ رکھ دیتے ہیں، دونوں ایک  دوسرے کی شکل قرآن کی ایک سورة پڑھ کر دیکھتے ہیں۔ مصحف قرآن شریف کو کہتے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

راہی

بی آر چوپڑ ہ نے اپنے  مشہور ٹی وی سِیریل  مہابھارت کا اسکرپٹ راہی معصوم  رضا سے لکھنے کو کہا تھا، تو پہلے تو انھوں نے انکار کر دیا تھا۔ جب اگلے دن یہ خبر اخبارات میں شائع ہوگئی تو ہزاروں لوگوں نے بی آر چوپڑا کو خط لکھا کہ کیا انہیں مہابھارت لکھوانے کے لیےایک مسلمان ہی ملا ہے۔ چوپڑا جی نے یہ خطوط راہی صاحب کو بھیج دئے۔ ان کو پڑھ کر، راہی صاحب  نے کہا کہ اب وہی مہابھارت لکھیں گے، کیونکہ وہ گنگا کے بیٹے ہیں۔ راہی کہا کرتے تھے کہ میری تین مائیں ہیں ایک تو مجھے جنم دینے والی، دوسری گنگا ندی اور تیسری میری مادر درسگاہ۔
راہی معصوم رضا نے ٹی وی سیریل مہابھارت لکھا تو اس کا اسکرپٹ اور مکالمے بہت پسند کئے گئے۔ ان کے گھر بھی خطوط کے انبار لگ گئے۔ لوگوں نے تعریفیں کرتے ہوئے خوب دعائیں دیں۔ ان کے پاس خطوط کے کئی گٹھربن گئے، لیکن ایک بہت چھوٹا سا بنڈل ان کی میز کے کنارے الگ پڑا تھا۔ یہ وہ خطوط تھے  جن میں انہیں برا کہا گیا تھا۔ کچھ ہندو اس بات پر ناراض تھے کہ انہوں نے مسلمان ہو کر مہابھارت لکھنے کی ہمت کیسے کی اور کچھ مسلمان ان سے اس لئے ناراض تھے کہ انہوں نے ہندوؤں کی کتاب کیوں لکھی۔ راہی نے کہا کہ یہ چھوٹا بنڈل دراصل مجھے حوصلہ دیتا ہے کہ ملک میں برے لوگ کتنے کم ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

علامہ

علامہ اقبال اپنے استادوں کا کتنا احترام کرتے تھے ؟  1923ءمیں انگریز حکومت نے ان  کو ْ سر ْ کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا لیکن انھوں نے کہا کہ وہ سرکا خطاب اس وقت قبول کریں گے جب اُن کے بچپن کے استاد  استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماءکا خطاب دیاجائے۔ اقبال نے اپنی ابتدائی تعلیم ان ہی  سے حاصل کی تھی ۔حکومت نے ان سے کہا کہ اتنا بڑا خطاب مولوی میر حسن کو کیسے دیاجاسکتا ہے کیا اُن کی کوئی معروف کتاب یاتصنیف ہے جس پر انہیں یہ اعزاز دیاجائے ۔علامہ اقبال نے  جواب دیا کہ  ْ میں ْ اُن کی جیتی جاگتی کتاب اورتصنیف آپ کے سامنے ہوں۔   
 حکومت برطانیہ نے مولوی میرحسن کو شمس العلماءکا خطاب دے دیا۔
آقبال نے اپنی  شاعری کے ابتدائ دور میں  مرزاداغ دہلوی سے  کچھ عرصے اصلاح لی تھی حالانکہ ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئ صرف  خط و کتابت ہوتی تھی۔ تھوڑے ہی عرصے میں داغ نے اقبال کو لکھ دیا تھا کہ اب آپ کے کلام میں اصلاح کی گنجائش نہیں ہے  ۔ داغ کی وفات پر  علامہ اقبال نے ایک مرثیہ لکھا جس کا ہر شعر محبت اور عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے ۔
اشک کے دانے زمینِ شعر میں بوتا ہوں میں
تو بھی رو  اے خاکِ دلی داغ کو روتا ہوں میں

کیا آپ کو معلوم ہے؟

آرزو

سریلی بانسری آرزو لکھنوی کا مشہور شعری  مجموعہ ہے . اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کی اس میں عربی اور فارسی لفظوں کا استمعال نہیں ہوا ہے . خالص ہندوستانی زبان میں شعر کہے گۓ ہیں : جیسے 

کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا 
لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جگر

جگرمرادابادی کی طبیعت میں بہت افتادگی تھی۔ مراداباد، آگرہ، اور پھر گونڈہ میں زندگی کے بیشتر ایام گزرے۔ مشاعروں کے سلسلے میں پورے ہندوستان کا دورہ کیا، اور اپنے وقت کے مقبول ترین شاعر رہے۔ کہا جاتا ہے اس وقت مشاعروں میں ان کا اعزازیہ 500 روپیہ ہوتا تھا۔ ان سب کے باوجود ان کی ازدواجی زندگی بہت بکھری ہوئی تھی۔ شراب نوشی اور آوارگی کی کثرت سے ان کی بیوی بہت بد دل ہوتی تھیں۔ آخر کار اصغر گونڈوی کے مشورے پر اپنی بیوی نسیم کو طلاق دے دی اور پھر اصغر گونڈوی نے ان سے شادی کر لی۔

آج کی پیش کش

ممتاز پاکستانی شاعرات میں نمایاں

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے

کبھی مزاج مہرباں وفا شعار چاہئے

پوری غزل دیکھیں

ریختہ بلاگ

پسندیدہ ویڈیو
This video is playing from YouTube
video

جگر مراد آبادی

Top 10 Sher Of Jigar Moradabadi

ویڈیو شیئر کیجیے

ای-کتابیں

بزم ادب

نامعلوم مصنف 

1938

کبیر

نامعلوم مصنف 

1978 سوانح حیات

سودائے خودی

شمس دکنی 

1995

پطرس کے مضامین

پطرس بخاری 

2011 نثر

اپنے دکھ مجھے دے دو

راجندر سنگھ بیدی 

1997 افسانوی ادب

مزید ای- کتابیں
ریختہ فاؤنڈیشن کی دیگر ویب سائٹس