آج کے منتخب ۵ شعر

وفا تم سے کریں گے دکھ سہیں گے ناز اٹھائیں گے

جسے آتا ہے دل دینا اسے ہر کام آتا ہے

آرزو لکھنوی
  • شیئر کیجیے

خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں

پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

افتخار عارف

سگی بہنوں کا جو رشتہ رشتہ ہے اردو اور ہندی میں

کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا

منور رانا
  • شیئر کیجیے

بس اک جھجک ہے یہی حال دل سنانے میں

کہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میں

کیفی اعظمی
  • شیئر کیجیے

نظر جھک رہی ہے خموشی ہے لب پر

حیا ہے ادا ہے کہ ان بن ہے کیا ہے

کوثر مظہری
آج کا لفظ

زیست

  • ziist
  • ज़ीस्त

معنی

life/ existence

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب

کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں

لغت

Quiz A collection of interesting questions related to Urdu poetry, prose and literary history. Play Rekhta Quiz and check your knowledge about Urdu!

Celebrated poet Nazeer Akbarabadi's real name was?
Start Today’s Quiz

Rekhta App : World’s largest collection of Urdu poetry

کیا آپ کو معلوم ہے؟

حیدر

راج کپور کی فلم "دیوانہ" کے ایک مشہور گانے کا مکھڑا دراصل حیدر علی آتش  کا شعر ہے، جس میں حسرت جے پوری نے ذرا سا تصرف کر دیا تھا۔ آتش کا شعر ہے 
اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے 
اسی اللہ  نے مجھے کو  بھی  محبت دی ہے 
 فلمی گانے میں شعر کا دوسرا مصرع  یوں بدل دیا گیا  
" اسی مالک مجھے بھی تو محبت دی ہے" 
خواجہ حیدر علی آتش( 1778_1847) کی پیدائش فیض  آباد میں ہوئ تھی۔  بہت شان دار اور خوبرو تھے. وضع قطع اپنے وقت کے"بانکوں" کی سی بنائے رکھتے تھے، تلوار بازی سیکھی تھی۔ کم سنی سے"تلوارئے"  مشہور ہو گئےتھے، شاعری سے شغف بھی بچپن سے تھا۔ نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیس فیض آباد، نے ان کو ملازم رکھ لیا تھا۔ جب نواب فیض آباد چھوڑ کر لکھنو آ گئے تو آتش بھی ان کے ساتھ لکھنو منتقل ہو گئے۔ ان کی غزلوں میں لکھنویت کا رنگ ضرور ہے  لیکن خوشبو دہلی کی ہے۔ ناسخ سے ان کی معاصرانہ چشمک چلتی رہتی تھی۔ آتش آزاد منش تھے نواب کےانتقال کے بعد کسی کی نوکری نہیں کی۔ بعض تذکروں کے مطابق واجد علی شاہ اپنے ایام شہزادگی سے ہی 80 روپے ماہانہ دیتے تھے۔ اخری وقت تک  آتش کے گھر کے باہر ایک گھوڑا ضرور بندھا رہتا تھا۔ایک تلوار کمر میں باندھے ، ترچھی ٹوپی لگائے  سپاہیانہ بانکپن آخر تک قائم رکھا ۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

شہر آشوب اردو شاعری کی ایک کلاسیکی صنف سخن ہے جو ایک زمانے میں بہت لکھی گئ تھی۔ یہ ایسی نظم ہوتی ہے جس میں  کسی سیاسی معاشرتی اور اقتصادی بحران کی وجہ سے کسی شہر کی پریشانی اور بربادی کا حال بیان کیا گیا ہو ۔ شہر آشوب مثنوی، قصیدہ، رباعی، قطعات، مخمس اور مسدّس کی شکلوں میں لکھے گئے ہیں۔ مرزا محمد رفیع سودا اور میر تقی میرؔ کے شہر آشوب، جن میں عوام کی بے روزگاری، اقتصادی بدحالی اور دلّی کی تباہی و بربادی کا ذکر ہے، اُردو کے یادگار شہر آشوب ہیں۔ نظیر اکبرآبادی نے اپنے شہر آشوبوں میں آگرے کی معاشی بدحالی، فوج کی حالتِ زار اور شرفا کی ناقدری کا حال بہت خوبی سے پیش کیا ہے. 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد دلّی پر جو قیامت ٹوٹی، اسے بھی دلّی کے بیشتر شعرا نے اپنا موضوع بنایا ہے، جن میں غالب، داغ دہلوی اور مولانا حالی شامل ہیں۔ 1954 میں حبیب تنویر نے نظیر اکبر آبادی کی شاعری پر مبنی  اپنے مشہور ڈرامے" آگرہ بازار" میں ان کے ایک شہر آشوب کو بہت موثر ڈھنگ سے اسٹیج پر گیت کی شکل میں پیش کیا تھا۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

گذشتہ برس دنیا کی معتبر انگریزی ڈکشنری کیمبرج میں اردو زبان کا سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ "اچھا" شامل کر لیا گیا۔ "اچھا" لفظ شامل کیے جانے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مزکورہ لفظ بھارتی انگریزی میں بھی عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔  ڈکشنری میں "اچھا" کو شامل کرتے ہوئے اس کے معنی خوشی اور حیرت کے اظہار کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ اور ساتھ ہی جملوں کو استعمال کرنے کی مثالیں  بھی دی گئی ہیں۔
  لیکن اردو میں لفظ  "اچھا" کئ اور معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر: مناسب، ٹھیک، درست، بُرا کی ضد، بہت خوب، (طنزاً)، تسلی، اطمینان، دیکھا جائے گا، سمجھے؟، سن لیا؟  (تاکید یا تنبیہ کے لیے)، اجازت ہے ؟ جیسے مشہور فلمی گانا 
" اچھا!  تو ہم چلتے ہیں " 
 یہ لفظ  تندرست، بے روگ ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے غالب کا یہ شعر 
درد منت کش دوا نہ ہوا 
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

کیا آپ کو معلوم ہے؟

" ہجو" ایک شعری صنف ہے جس میں شاعر کسی شخص یا حریف کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے۔ بعض لوگ ہجو کو قصیدے ہی کی ایک قسم مانتے ہیں۔ اردو میں باقاعدہ طور پر ہجو گوئی کا آغاز محمد رفیع سودا (1713 .1781) سے ہوتا ہے۔ انھوں  نے اپنی ہجووں کے لئے قصیدہ ، مثنوی ، قطعہ، غزل ، رباعی ، غرض سبھی اصناف سخن استعمال کئے ہیں 
محمد حسین آزاد ”آب حیات“ میں لکھتے ہیں کہ سودا کا ”غنچہ“ نامی ایک غلام تھا جو ہر وقت خدمت میں رہتا تھا اور ساتھ قلم دان لئے پھرتا تھا۔ جب کسی سے بگڑتے تو فوراً پکارتے" ارے غنچے لا تو قلم دان، ذرا میں اس کی خبر تو لوں، یہ مجھے سمجھا کیا ہے۔ "
سودا نے مختلف قسم کی ہجویات کہی ہیں۔ وہ جو معاصرانہ چشمک کی چھیڑ چھاڑ سے بھر پور ہیں یا پھر اخلاق کی اصلاح کے لئے لکھی ہیں یا جن میں اپنے دور کی سیاسی ابتری اور مالی بدحالی پر طنز ہے اور مضحکہ اُڑایا گیا ہے۔ سودا نے ایک ہاتھی اورگھوڑے کی بھی ہجویں لکھی ہیں۔ ان کی مشہور "تضحیک روزگار“ بظاہر ایک ناتواں گھوڑے کی ہجو ہے لیکن دراصل یہ مغلیہ سلطنت کے آخری دور کا استعارہ ہے جو اس دور کی سیاسی اور معاشی بدحالی کا ترجمان ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

فرہنگِ آصفیہ میں عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت اور انگریزی کے وہ الفاظ رکھے گئے ہیں، جو اردو زبان میں شامل ہو چکے ہیں۔ 
فرہنگِ آصفیہ کے مولف مولوی سید احمد دہلوی 1844ء میں دہلی سات برس تک ایک انگریز مستشرق ڈاکٹر فیلن کے ساتھ کام کیا جو اردو انگریزی لغت مرتب کر رہے تھے۔  یہیں سے انھں یہ لغت مرتب کرنے کا خیال آیا۔1878 میں انھوں نے ارمغانِ دہلی کے نام سے رسالے کی شکل میں لغت کا آغاز کیا، بعد میں جب نظام دکن محبوب علی خان کی سرپرستی مل گئ  تو انھوں نے نظام کے لقب آصف کی نسبت سے فرہنگِ آصفیہ کے نام سے یہ لغت شائع کی۔ اس میں انیسویں صدی کی گنگا جمنی تہذیب کا مرقع ہے جس میں اُس دور کے رسم و رواج، ملبوسات، شاعری، ادبی و علمی اصطلاحات، زیوارت، خوراک و مشروبات، نشست و برخاست وغیرہ سے متعلق الفاظ کا بہت اہم ذخیرہ ملتا ہے۔

آج کی پیش کش

ممتاز مابعد جدید شاعر، 1996میں اچانک لاپتہ ہوگئے

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے

تمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے

پوری غزل دیکھیں

ریختہ بلاگ

پسندیدہ ویڈیو
This video is playing from YouTube

داغؔ دہلوی

Dagh Ko Rota Hoon Mai | Allama Iqbal Aur Dagh Dehlvi | Rekhta Studio

ویڈیو شیئر کیجیے

ای-کتابیں

اقبال دلہن

بشیر الدین احمد دہلوی 

1908 اخلاقی کہانی

کلیات انور شعور

انور شعور 

2015 کلیات

مغل تہذیب

محبوب اللہ مجیب 

1965

اودھوت کا ترانہ

 

1958 نظم

شمارہ نمبر۔002

ڈاکٹر محمد حسن 

1970 عصری ادب

مزید ای- کتابیں