Meer Taqi Meer's Photo'

میر تقی میر

1723 - 1810 | دلی, ہندوستان

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

غزل 343

اشعار 189

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

Stratagems all came apart, no cure could render remedy

it was this ailment of my heart, that finished me off finally

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

  • شیئر کیجیے

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

مرثیہ 34

قطعہ 26

رباعی 104

میریات 1914

قصیدہ 8

کتاب 107

افکار میر

 

1996

احسن الانتخاب

 

1936

اسالیب میر

میر کے کلام پر طنز و مزاح کی روشنی میں تبصرہ

1963

اشعار میر

 

1935

اشعارمیر

 

1953

بیان میر

 

2013

دریائے عشق اور بحر المحبت کا تقابلی مطالعہ

 

1972

دیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو

میر ما سوائے غزل، جلد-002

2014

دیوان میر

اردو، دیوناگری

1960

دیوان میر

دیوناگری حصہ.002

 

تصویری شاعری 31

جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں کیا تیر_ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت_دل آنکھوں سے یا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کر وے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے برسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں ان آئینہ_رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیں جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا مستند ہے میرا فرمایا ہوا

کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی دھوم ہے پھر بہار آنے کی دل کا اس کنج_لب سے دے ہے نشاں بات لگتی تو ہے ٹھکانے کی وہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دور ہے یہ تقریب جی کے جانے کی تیز یوں ہی نہ تھی شب آتش_شوق تھی خبر گرم اس کے آنے کی خضر اس خط_سبز پر تو موا دھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی دل_صد_چاک باب_زلف ہے لیک باؤ سی بندھ رہی ہے شانے کی کسو کم_ظرف نے لگائی آہ تجھ سے مے_خانے کے جلانے کی ورنہ اے شیخ_شہر واجب تھی جام_داری شراب_خانے کی جو ہے سو پائمال_غم ہے میرؔ چال بے_ڈول ہے زمانے کی

بے_خودی لے گئی کہاں ہم کو دیر سے انتظار ہے اپنا

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

تجھی پر کچھ اے بت نہیں منحصر جسے ہم نے پوجا خدا کر دیا

ویڈیو 45

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

بیگم اختر

aa ke sajjaada-nashii.n qais hu.aa mere ba.ad

عابدہ پروین

aa ke sajjaada-nashii.n qais hu.aa mere ba.ad

عابدہ پروین

Na socha na samjha na seekha na janaa

بیگم اختر

Zia reads Mir Taqi Mir

Zia reads Mir Taqi Mir ضیا محی الدین

آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں

نامعلوم

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

مہناز بیگم

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

مہدی حسن

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

Urdu Studio

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

بھارتی وشواناتھن

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

مہران امروہی

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

بیگم اختر

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

فرانسس ڈبلیو پریچیٹ

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

میر تقی میر

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے_گا

ضیا محی الدین

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

مہران امروہی

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

بھارتی وشواناتھن

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

لتا منگیشکر

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

زمرد بانو

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

اقبال بانو

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

ایم کلیم

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

مہدی حسن

دل کی بات کہی نہیں جاتی چپکے رہنا ٹھانا ہے

بیگم اختر

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

مہدی حسن

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

نامعلوم

عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا

مہران امروہی

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

امجد پرویز

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

مہران امروہی

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

ثریا

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

مہران امروہی

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

مہران امروہی

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

مہدی حسن

کاش اٹھیں ہم بھی گنہ_گاروں کے بیچ

مہران امروہی

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

مہران امروہی

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

مہدی حسن

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

فریدہ خانم

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

حبیب ولی محمد

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

مہران امروہی

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

سلیم رضا

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

مہران امروہی

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

سی ایچ آتما

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

پنکج اداس

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

مہران امروہی

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

چھایا گانگولی

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

غلام علی

آڈیو 47

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے_گا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

  • خاں آرزو سراج الدین علی خاں آرزو سراج الدین علی استاد
  • داؤد اورنگ آبادی داؤد اورنگ آبادی ہم عصر
  • تاباں عبد الحی تاباں عبد الحی ہم عصر
  • ولی اللہ محب ولی اللہ محب ہم عصر
  • محمد امان نثار محمد امان نثار ہم عصر
  • محمد رفیع سودا محمد رفیع سودا ہم عصر
  • جعفر علی حسرت جعفر علی حسرت ہم عصر
  • خواجہ میر درد خواجہ میر درد ہم عصر
  • منو لال صفا لکھنوی منو لال صفا لکھنوی شاگرد
  • میر کلو عرش میر کلو عرش بیٹا

"دلی" کے مزید شعرا

  • مرزا غالب مرزا غالب
  • فرحت احساس فرحت احساس
  • داغؔ دہلوی داغؔ دہلوی
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • راجیندر منچندا بانی راجیندر منچندا بانی
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • تاباں عبد الحی تاباں عبد الحی
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر