Meer Taqi Meer's Photo'

میر تقی میر

1723 - 1810 | دلی, ہندوستان

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

میر تقی میر کے اشعار

94.3K
Favorite

باعتبار

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے

مدعا ہم کو انتقام سے ہے

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ

کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

یہ میر تقی میر کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس شعر کی بنیاد ’’مت سہل ہمیں جانو‘‘ پر ہے۔ سہل کا مطلب آسان بھی ہے اور کم تر بھی۔ مگر اس شعر میں یہ لفظ کم تر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ فلک کا مطلب آسمان ہے اور فلک کے پھرنے سے مراد گشت کرنے کا بھی ہیں اور مارا مارا پھرنے کے بھی۔ مگر اس شعر میں فلک کے پھرنے سے غالب مراد مارامارا پھرنے کے ہی ہیں۔ خاک کا مطلب زمین ہے اور خاک کا لفظ میر نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ انسان کو خاک سے بنا ہوا یعنی خاکی کہا جاتا ہے۔

شعر میں خاص بات یہ کہ شاعر نے ’’فلک‘‘، ’’خاک‘‘ اور ’’انسان‘‘ کے الفاظ سے بہت کمال کا خیال پیش کیا ہے۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہوئے کہ اے انسان ! ہم جیسے لوگوں کو سہل مت سمجھو، ہم جیسے لوگ تب خاک سے پیدا ہوتے ہیں جب آسمان برسوں تک بھٹکتا ہے۔

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات

اب یہی روزگار ہے اپنا

میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہو

آدمی ہونا تو مشکل ہے میاں

گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر

اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا (از سعادت خاں ناصر لکھنوی) میں میر کے باب میں لکھا ہے کہ میر اپنی کم عمری کے زمانہ میں،جب تک خان آرزو کی صحبت میں رہے، کبھی کبھی دو چار شعر ان کی خدمت میں پڑھتے تھے، جنھیں وہ پسند کرتے تھے اور تاکید شعر و سخن کی زیادہ سے زیادہ کرتے تھے۔ ایک دن خان آرزو نے کہا کہ کہ آج مرزا رفیع آئے اور یہ مطلع نہایت مباہات کے ساتھ پڑھ گئے/

چمن میں صبح جو اس جنگجو کا نام لیا / صبا نے تیغ کا آب رواں سے کام لیا

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا

ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

میرؔ کے اس شعر میں کمال کی ڈرامائی صورت پائی جاتی ہے۔ اس ڈرامائی صورت میں کم از کم تین کردار فرض کئے جاسکتے ہیں۔اگر یہ تصور کیا جائے کہ شعری کردار کئی لوگوں سے مخاطب ہیں تو کرداروں کا تعین کرنا مشکل ہے۔ یعنی یہ کہنا کہ کتنے لوگ میر کی مزاج پرسی کے لئے آئے ہیں، واضح نہیں ہوتا۔ اس شعر میں لفظ ’’ٹک‘‘ (یعنی ذرا سا)کو کلیدی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اسی سے شعر میں تاثیر پیدا کی گئی ہے۔ ’’روتے روتے‘‘سے جو مسلسل گریے کی کیفیت پیدا کی گئی ہے وہ بھی کم دلچسپ نہیں۔

شعر ایک منظر کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ مخاطب کا لہجہ انتباہی بھی ہوسکتا ہے اور التماسی بھی۔ دوسری صورت یہ بنتی ہے کہ خطاب صرف ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو میرؔ کے سرہانے بیٹھ کر یا تو گفتگو کرتے ہیں یا پھر میرؔ کی طبیعت کا حال مخاطب سے پوچھ رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو لوگ مزاج پرسی سرہانے بیٹھ کر کرتے ہیں وہ بیمار کے زیادہ قریبی ہوتے ہیں۔ بہرحال مخاطب کا میر کے سرہانے بیٹھ کر گفتگو کرنے والوں سے کہنا کہ میر کے سرہانے کوئی نہ بولو سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ میر ذرا سی آواز سے بھی جاگ سکتے ہیں۔ ’ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے‘ میں کمال کی ڈرامائیت ہے۔ یعنی مخاطب گواہ ہے کہ میر نے بہت دیر تک گریہ کیا اب تھک ہار کے ابھی ذرا سا سوگئے ہیں۔ ذرا سا جب کہا تو گویا میر ابھی اٹھ کر پھر سے رونا شروع کریں گے۔

اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں

تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا

اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا

کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

عشق معشوق عشق عاشق ہے

یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے

سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں

اس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں

میرؔ بندوں سے کام کب نکلا

مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ

جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے

درد بے اختیار اٹھتا ہے

میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے

اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور

کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

امیر یعنی سردار، حاکم، دولت مند۔ غریب یعنی مفلس، بے وطن۔ دولت یعنی دھن، مال، اقبال، نصیب، سلطنت، حکومت، فتح، خوشی، اولاد۔میر کا یہ شعر انسلاکات کی وجہ سے دلچسپ بھی ہے اور عجیب بھی۔ اس شعر میں میرؔ نے مناسبتوں سے خوب مضمون پیدا کیا ہے۔ اس کے تلازمات میں امیر زادوں ، غریب اور دولت بہت معنی خیز ہیں اور پھر ان کی مناسبت دلّی سے بھی خوب ہے۔ میرؔ خود سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ دلّی کے امیر زادوں کی صحبت سے پرہیز کرو کیونکہ ہم ان ہی دولت سے غریب ہوئے ہیں۔ اگر دولت کو محض دھن اور مال کے معنوں میں لیا جائے تو شعر کے معنی یہ بنتے ہیں کہ میرؔ دلّی کے امیر زادوں سے دور رہو کیونکہ ہم ان ہی کے مال و زر سے غریب ہوئے ہیں۔ مگر میر ؔ جس قدر سہل پسند تھے اسی قدر ان کے اشعار میں پیچیدگی اور تہہ داری بھی ہے۔ دراصل میر کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ دلّی کے امیر زادوں کے نصیب اور ان کے اقبال کی وجہ سے خدا ان پر مہربان ہے اور خدا ان کو دولت سے مالا مال کرنا چاہتا ہے اس لئے ہمارے حصے کی دولت بھی ان کو عطا کی جس کی وجہ سے ہم مفلس ہوگئے۔ اگر مارکسزم کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو میر یہ کہتے ہیں کہ چونکہ دلّی کے امیر مادیت پرست ہیں اور دولت جمع کرنے کے لئے کوئی حربہ نہیں چھوڑتے اس لئے انہوں نے ہماری دولت ہم سے لوٹ کر ہمیں غریب بنا دیا ہے۔

دل مجھے اس گلی میں لے جا کر

اور بھی خاک میں ملا لایا

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے

اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے

گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر

یہ ہماری زبان ہے پیارے

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

سخت کافر تھاجن نے پہلے میرؔ

مذہب عشق اختیار کیا

عمر گزری دوائیں کرتے میرؔ

درد دل کا ہوا نہ چارہ ہنوز