Meer Taqi Meer's Photo'

میر تقی میر

1723 - 1810 | دلی, ہندوستان

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

77.8K
Favorite

باعتبار

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

Stratagems all came apart, no cure could render remedy

it was this ailment of my heart, that finished me off finally

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

whether me or you, or miir it may be

are prisoners of her tresses for eternity

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

why even mention of the heart's deserted state

this city's been looted a hundred times to date

کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے

مدعا ہم کو انتقام سے ہے

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

love is a real burden, Miir, it is a heavy stone

how can it be lifted by a weak person alone?

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ

کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

I sacrifice my heart upon your infidelity

were you faithful it would be a calamity

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات

اب یہی روزگار ہے اپنا

میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہو

آدمی ہونا تو مشکل ہے میاں

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا

ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

Us weak, she wrongfully accuses, of taking untold liberty

while she acts as she chooses, and maligns us needlessly

اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں

تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا

اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا

کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے

سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم

گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر

اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں

اس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں

میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے

اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو

عشق معشوق عشق عاشق ہے

یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق

both lover and beloved be

love's self-involved entirely

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور

کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے

درد بے اختیار اٹھتا ہے

when from my side my love departs

a gush of grief unbidden starts

میرؔ بندوں سے کام کب نکلا

مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

Why is it you seek to know, of Miir's religion, sect, for he

Sits in temples, painted brow, well on the road to heresy

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

breathe here softly as with fragility here all is fraught

in this workshop of the world where wares of glass are wrought

دل مجھے اس گلی میں لے جا کر

اور بھی خاک میں ملا لایا

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے

اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے

ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

had I known the outcome, to love would not aspire

would gladly turn this heart to dust with unfulfilled desire

گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر

یہ ہماری زبان ہے پیارے

عمر گزری دوائیں کرتے میرؔ

درد دل کا ہوا نہ چارہ ہنوز

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور

شمع حرم ہو یا ہو دیا سومنات کا

سخت کافر تھاجن نے پہلے میرؔ

مذہب عشق اختیار کیا