Meer Taqi Meer's Photo'

میر تقی میر

1722-23 - 1810 | دلی, ہندوستان

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

33.84K
Favorite

باعتبار

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

why even mention of the heart's deserted state

this city's been looted a hundred times to date

why even mention of the heart's deserted state

this city's been looted a hundred times to date

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

love is a real burden, Miir, it is a heavy stone

how can it be lifted by a weak person alone?

love is a real burden, Miir, it is a heavy stone

how can it be lifted by a weak person alone?

ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ

کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

whether me or you, or miir it may be

are prisoners of her tresses for eternity

whether me or you, or miir it may be

are prisoners of her tresses for eternity

کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے

مدعا ہم کو انتقام سے ہے

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

I sacrifice my heart upon your infidelity

were you faithful it would be a calamity

I sacrifice my heart upon your infidelity

were you faithful it would be a calamity

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا

ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

Us weak, she wrongfully accuses, of taking untold liberty

while she acts as she chooses, and maligns us needlessly

Us weak, she wrongfully accuses, of taking untold liberty

while she acts as she chooses, and maligns us needlessly

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات

اب یہی روزگار ہے اپنا

پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہے

دنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہے

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہو

آدمی ہونا تو مشکل ہے میاں

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور

کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

in my own way I have dealt with love you see

all my life I made my failures work for me

in my own way I have dealt with love you see

all my life I made my failures work for me

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں

تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا

کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

breathe here softly as with fragility here all is fraught

in this workshop of the world where wares of glass are wrought

breathe here softly as with fragility here all is fraught

in this workshop of the world where wares of glass are wrought

جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے

درد بے اختیار اٹھتا ہے

when from my side my love departs

a gush of grief unbidden starts

when from my side my love departs

a gush of grief unbidden starts

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں

اس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں

میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے

اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

what can I say of love to thee

soul's ailment and calamity

what can I say of love to thee

soul's ailment and calamity

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

Why is it you seek to know, of Miir's religion, sect, for he

Sits in temples, painted brow, well on the road to heresy

Why is it you seek to know, of Miir's religion, sect, for he

Sits in temples, painted brow, well on the road to heresy

دل مجھے اس گلی میں لے جا کر

اور بھی خاک میں ملا لایا

سخت کافر تھاجن نے پہلے میرؔ

مذہب عشق اختیار کیا

کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا

اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

had I known the outcome, to love would not aspire

would gladly turn this heart to dust with unfulfilled desire

had I known the outcome, to love would not aspire

would gladly turn this heart to dust with unfulfilled desire

اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور

شمع حرم ہو یا ہو دیا سومنات کا

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر

منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ

اب جو اک حسرت جوانی ہے

عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے

سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم

گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے

رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک

مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میرؔ زبس

ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے

جائے ہے جی نجات کے غم میں

ایسی جنت گئی جہنم میں