Meer Taqi Meer's Photo'

میر تقی میر

1723 - 1810 | دلی, انڈیا

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

میر تقی میر کے اشعار

131.7K
Favorite

باعتبار

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

تشریح

میر کے شعر گویا غم ہستی کی تصویر نظر آتے ہیں یا یوں کہیے کہ غم ہستی کی تشریح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جو دل پر بیتی ہے میر اس کو شعری جامہ پہنا کر کہنے میں بڑی سہولت محسوس کرتے ہیں۔

میر کہتے ہیں کہ ان کے حال دل سے تمام بوٹے تمام پتے اور تمام بیل بوٹے واقف ہیں۔ گویا سارا باغ سوائے ایک گل کے ان کے حال دل سے اور ان کی تمام کیفیات سے پوری طرح سے واقف ہے ۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ پورا باغ گویا دنیا ہے جو ان کے حال دل سے واقف ہے اور یہ جو گُل ہے یہ ان کا محبوب ہے جو جان بوجھ کر ان کے حال دل سے واقفیت رکھنا ہی نہیں چاہتا ہے۔ جس کا ان کو انتہائی گلہ ہے

۔

میر کے لیے یہ کیفیت انتہائی تکلیف دہ ہے کہ ان کی خستہ حالی ان کے غم اور ان کی تکلیف سے ان کا محبوب واقف ہی نہیں ہے۔ اور دوسرے لفظوں میں گویا واقف ہونا بھی نہیں چاہتا۔

میر اس تکلیف کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں اور اس کا اظہار بھی انتہائی آسان لفظوں میں کر دیتے ہیں۔ یہ بیان اور یہ انداز خدائے سخن میر کی با کمال صلاحیت ہے۔

سہیل آزاد

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

تشریح

میر اپنی سہل شاعری میں کوئی ثانی نہیں رکھتے ہیں۔ جس سہولت سچائی اور آسانی کے ساتھ وہ مضامین کو بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اس کی مثال مشکل ہی سے ملتی ہے۔

اس شعر میں میر نے بڑی معصومیت اور سادگی کے ساتھ اپنے محبوب کے حسن کی تعریف بیان کی ہے۔ ظاہر ہے کہ حسن کی تعریف کے بیان میں محبوب کے ہونٹوں کا بیان بہت اہم شے ہے۔ میر اپنے محبوب کے ہونٹوں کی نازکی ملائمیت یا softness کو بیان کرتے ہوئے تشبیہ دیتے ہیں اور وہ تشبیہ گلاب کے پھول کی پنکھڑی سے دیتے ہیں۔ گلاب کی پنکھڑی بہت نازک ہوتی ہیں، بہت نرم ہوتی ہیں اتنی نرم اور اتنی نازک ہوتی ہیں کہ میر کو اپنے محبوب کے ہونٹوں کی بناوٹ بالکل گلاب کی پنکھڑی کی مانند نظر آتی ہے ۔petals of the rose انتہائی مناسب تشبیہ ہے، جو محبوب کے ہونٹوں کے لیے دی جاسکتی ہے اور میر نے اس مناسب ترین تشبیہ کا استعمال کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اُپما کے چناؤ میں بھی ان کا کوئی بدل نہیں ہے ۔

آسان لفظوں میں کہا جائے تو بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ میر اپنے محبوب کے ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑی کی طرح محسوس کرتے ہیں اس کی نازکی کی یا اس کی ملائمیت یا softness کی وجہ سے اور اس طرح اس تشبیہ نے محبوب کے حسن کا بہترین نقشہ کھینچ دیا ہے۔

سہیل آزاد

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے

مدعا ہم کو انتقام سے ہے

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات

اب یہی روزگار ہے اپنا

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

تشریح

اس شعر کا پہلا مصرع عام طور پر یوں مشہور ہےع

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے

لیکن صحیح اور بہتر وہی ہے جو درج متن ہے۔ مصحفی کا ایک شعر اس سے تقریباً ہوبہو لڑ گیا ہے؎

شام سے ہی بجھا سا رہتا ہے

دل ہے گویا چراغ مفلس کا

میر کا شعر مصحفی سے کہیں بہتر ہے، کیوں کہ پہلے مصرع میں کہا کہ میں شام سے کچھ افسردہ رہتا ہوں۔ یہ افسردگی پورے مزاج، پوری شخصیت کی ہے۔ دوسرے مصرع میں بظاہر غیر متعلق بات کہی کہ میرا دل مفلس کا چراغ ہو گیا ہے۔ لیکن دراصل پہلے مصرعے میں دعویٰ اور دوسرے مصرعے میں دلیل ہے۔ جب دل مفلس کے چراغ کی طرح ہے تو ظاہر ہے اس میں روشنی کم ہوگی، یعنی حرارت کم ہوگی، یعنی اس میں امنگیں اور امیدیں کم ہوں گی۔ اور جب دل میں امنگیں اور امیدیں کم ہوں گی تو ظاہر ہے کہ پوری شخصیت افسردہ ہوگی۔ مصحفی کے شعر میں صرف ایک مشاہدہ ہے، کہ دل بجھا سا رہتا ہے۔ میر کے یہاں دو مشاہدے ہیں اور دونوں میں دعویٰ اور دلیل کا ربط بھی ہے۔ پھر یہ نکتہ بھی ہے کہ دل میں اگر روشنی کم ہے تو اس میں سوز بھی کم ہوگا۔ (چراغ جتنا روشن ہوگا اس میں سوزش بھی اتنی ہی ہوگی) تو اگر دل میں روشنی کم ہے تو اس میں سوز بھی کم ہوگا۔ (چراغ جتنا روشن ہوگا اس میں سوزش بھی اتنی ہی ہوگی۔) تو اگر دل میں سوز محبت کم ہونے کی وجہ سے طبیعت افسردہ رہتی ہے، یا دل بے نور ہے، یعنی اس میں معشوق کا جلوہ نہیں، یا اس میں نور معرفت نہیں۔ شام کی تخصیص اس وجہ سے کی کہ دن کو تو طرح طرح کی مصروفیتوں میں دل بہلا رہتا ہے۔ شام آتے ہی بے کاری اور تنہائی آ گھیرتی ہے۔ دل چوں کہ بالکل بے نور نہیں، بلکہ مفلس کے چراغ کی طرح سے دھندلی لو رکھتا ہے، اس لئے خود کو ’’کچھ بجھا سا‘‘ کہا، بالکل افسردہ نہیں کہا۔ دل میں ولولہ یا جلوۂ معشوق یا نور معرفت کم ہونے کے لئے اس کو دھندلے چراغ سے تشبیہ دینا، اور پھر چراغ کو براہ راست دھندلا نہ کہنا، بلکہ کنایاتی انداز میں مفلس کا چراغ کہنا، اعجاز سخن گوئی ہے۔ ’’چراغ مفلس‘‘ کا پیکر نسبتاً کمزور طریقے سے میر نے دیوان اوّل میں ہی ایک بار اور باندھا ہے؎

کہہ سانجھ کے موئے کو اے میر روئیں کب تک

جیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو

شہر یار نے اس مضمون کا ایک پہلو بڑی خوبی سے ادا کیا ہے؎

یہ تب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا

دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا

قائم چاند پوری نے بھی میر کے چراغ سے اپنا چراغ روشن کیا ہے۔ لیکن انہوں نے ’’تہی دست کا چراغ‘‘ کہہ کر ایک نیا پیکر بنایا ہے۔ اور ایک نئی بات بھی پیدا کردی ہے کہ ہاتھ خالی بھی ہے اور اس میں چراغ بھی ہے۔ قائم کا شعر ہے؎

نت ہی قائم بجھا سا رہتا ہوں

کس تہی دست کا چراغ ہوں میں

شمس الرحمن فاروقی

میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہو

آدمی ہونا تو مشکل ہے میاں

ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ

کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

تشریح

یہ میر تقی میر کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس شعر کی بنیاد ’’مت سہل ہمیں جانو‘‘ پر ہے۔ سہل کا مطلب آسان بھی ہے اور کم تر بھی۔ مگر اس شعر میں یہ لفظ کم تر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ فلک کا مطلب آسمان ہے اور فلک کے پھرنے سے مراد گشت کرنے کا بھی ہیں اور مارا مارا پھرنے کے بھی۔ مگر اس شعر میں فلک کے پھرنے سے غالب مراد مارامارا پھرنے کے ہی ہیں۔ خاک کا مطلب زمین ہے اور خاک کا لفظ میر نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ انسان کو خاک سے بنا ہوا یعنی خاکی کہا جاتا ہے۔

شعر میں خاص بات یہ کہ شاعر نے ’’فلک‘‘، ’’خاک‘‘ اور ’’انسان‘‘ کے الفاظ سے بہت کمال کا خیال پیش کیا ہے۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہوئے کہ اے انسان ! ہم جیسے لوگوں کو سہل مت سمجھو، ہم جیسے لوگ تب خاک سے پیدا ہوتے ہیں جب آسمان برسوں تک بھٹکتا ہے۔

لیکن شاعر اصل میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم جیسے باکمال لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے بلکہ جب آسمان برسوں مارا مارا پھرتا ہے تب ہم جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں کم تر یا کم مایہ مت جانو۔ یعنی جب آسمان برسوں تک ہم جیسے باکمال لوگوں کو پیدا کرنے کے لئے مارا مارا پھرتا ہے تب کہیں جا کر ہم خاک کے پردے سے پیدا ہوتے ہیں۔

اس شعر میں لفظ انسان سے دو مطلب برآمد ہوتے ہیں یعنی ایک یعنی باکمال، یا ہنر اور با صلاحیت آدمی۔ دوسرا انسانیت سے بھرپور آدمی۔

شفق سوپوری

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر

اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

تشریح

تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا (از سعادت خاں ناصر لکھنوی) میں میر کے باب میں لکھا ہے کہ میر اپنی کم عمری کے زمانہ میں،جب تک خان آرزو کی صحبت میں رہے، کبھی کبھی دو چار شعر ان کی خدمت میں پڑھتے تھے، جنھیں وہ پسند کرتے تھے اور تاکید شعر و سخن کی زیادہ سے زیادہ کرتے تھے۔ ایک دن خان آرزو نے کہا کہ کہ آج مرزا رفیع آئے اور یہ مطلع نہایت مباہات کے ساتھ پڑھ گئے/

چمن میں صبح جو اس جنگجو کا نام لیا / صبا نے تیغ کا آب رواں سے کام لیا

میر صاحب نے اس کو سن کر بدیہ یہ مطلع پڑھا

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا۔۔۔۔۔۔۔ دل ستم زدہ کو اپنے تھام تھام لیا(مطبوعہ نسخوں میں اپنے کی جگہ ہم نے ہے )

خان آرزو فرط خوشی سے اچھل پڑے اور کہا خدا چشم بد سے محفوظ رکھے

آئیے اب میر کے اس شعر پر غور کریں۔ اس سیدھے سادے شعر میں آخر ایسی کیا خوبی ہے کہ خان آرزو جیسا صاحب نظر اسے سن کر فرط خوشی سے اچھل پڑا،شفقت کے اظہار یا حوصلہ افزائی کے کئے تھوڑی سی واہ واہ کافی تھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کیفیت کا شعر ہے جو شاعر کے دل سے نکل کر سیدھا سامع کے دل میں جاتا ہے اور یہی اس شعر کی خوبی ہے۔ لیکن یہ بات تو ہم واردات قلبی کے کسی بھی شعر کے بارے میں کہہ سکتے ہیں، جو ہم کو پسند ہو۔ تو کیا اس شعر میں بس اتنی ہی خوبی ہے؟

اب اگر ہم اس شعر کو ذرا غور سے پڑھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس شعر میں غزل کی رسوم شعری کے حوالہ سے معانی کا اک جہان آباد ہے۔ اس سادہ سے شعر میں عاشق، معشوق کا نام سن کر اپنے دل کو تھام تھام لیتا ہے۔ دل تھام لینے کی وجوہ بیان نہ کر کے شاعر نے بیک وقت اپنے تمام اندیشوں اور امکانات کا اظہار کر دیا ہے۔ یعنی ہمارے سامنے کوئی اس کا نام کیوں لے؟ کیا وہ بھی اُسی کے عشق میں مبتلا ہے جس کے عشق میں میں مبتلا ہوں!کیا وہ شخص ہمارے محبوب کا ہمارے سامنے نام لے کر ہمارے رازعشق کو جاننا چاہتا ہے جو ہم نے ابھی تک چھپا رکھا ہے۔ بہرحال ہم نے اپنے راز عشق کو افشاء نہیں ہونے دیا حالانکہ ہم کو اس کے لئے بڑی جدوجہد کرنا پڑی۔ یہاں شعر کے دوسرے مصرع میں لفظ تھام کی تکرار کا اصل جواز واضح ہوتا ہے۔ غور کیجئے کہ اگر دوسرا مصرع اس طرح ہوتا۔۔۔دل ستم زدہ کو اپنے ہم نے تھام لیا تو شعر آسمان سے زمین پر گر جاتا بلکہ مضحکہ خیز ہو جاتا۔

شعر میں لفظ نام بھی بڑے کام کا ہے۔ بو علی سینا کے پاس اک مریض لایا گیا جو دن بدن لاغر ہوتا جا رہا تھا ۔ بو علی سینا سمجھ گئے کہ یہ مریض عشق ہے لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں تھا۔ وہ کون ہے، کس شہر میں رہتی ہے،اس کا نام کیا ہے جب تک یہ نہ معلوم ہو اس کا علاج کیونکر ممکن تھا۔ آخر انہں اک تدبیر سوجھی۔ انہوں نے مریض کی نبض پر ہاتھ رکھا اورشہروں کے نام لینے لگے۔ آخر ایک شہر کے نام پر مریض کی نبض پھڑک اٹھی۔ لیجئے شہر کا نام معلوم ہو گیا۔ اسی طرح انھوں نے متعلقہ محلہ، مکاں اور لڑکی کے نام کا پتہ لگا لیا اب مریض کا علاج آسان تھا۔ یہاں میر صاحب کے شعری عاشق کو بو علی سینا کا سامنا نہیں تھا کہ بے قابو نبض اس کو مشکل میں ڈالتی، بس دل کو بمشکل تھام،بلکہ تھام تھام کر اس نے راز دل چھپا لیا۔

اب دل ستم زدہ پر غور کیجیے۔ عاشق ستم کا مارا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ معشوق جفا جو کسی کے ساتھ ستم سے باز نہیں آتا۔ اب ایک شخص اُسی کا نام لے رہا ہے عین ممکن ہے کہ وہ اس کی طرف مائل ہو یا اس کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہو۔ میر کے عاشق نے تو ستم، جیسے تیسے، جھیل لئے لیکن ایسا کر پانا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں اب اس نئے عاشق پر کیا گزرے گی؟ یہ سوچ کر ہی اس کا دل دہل جاتا ہے اور وہ اپنے دل ستم زدہ کو تھام تھام لیتا ہے۔ یہ شاعر کے احساس درد مندی کی مثال ہے

شعر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عاشق کو بر بنائے غیرت یہ بھی گوارہ نہں کہ کوئی اس کے معشوق سے کسی قسم کا تعلق رکھنا تو دور، اس کا نام بھی اپنی زبان پر لائے۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صاحب تذکرہ نے شعر میں ہم نے کی جگہ اپنے لکھا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ یادداشت یا کتابت کی غلطی ہو۔ بہرحال اپنے کے ساتھ شعر اپنے مرتبہ سے گر جاتا ھے، کیونکہ اوّل تو اپنے بے محل اور زائد ٹھہرے گا ( یہ تو ممکن نہیں کہ اپنے سوا کسی دوسرے کا دل تھام لیا جائے) پھر اپنے لکھنے سے یہ بھی گمان ہو سکتا تھا کہ شائد نام لینے والا خود اپنا دل تھام رہا ہے۔ یہ شعر کا اک مضحکہ خیز پہلو ہوتا۔ لفظوں کو برتنے کا یہی فن بڑے شاعر کو معمولی شاعر سے ممتاز کرتا ہے۔

محمّد آزم

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا

اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں

تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

تشریح

میرؔ کے اس شعر میں کمال کی ڈرامائی صورت پائی جاتی ہے۔ اس ڈرامائی صورت میں کم از کم تین کردار فرض کئے جاسکتے ہیں۔اگر یہ تصور کیا جائے کہ شعری کردار کئی لوگوں سے مخاطب ہیں تو کرداروں کا تعین کرنا مشکل ہے۔ یعنی یہ کہنا کہ کتنے لوگ میر کی مزاج پرسی کے لئے آئے ہیں، واضح نہیں ہوتا۔ اس شعر میں لفظ ’’ٹک‘‘ (یعنی ذرا سا)کو کلیدی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اسی سے شعر میں تاثیر پیدا کی گئی ہے۔ ’’روتے روتے‘‘سے جو مسلسل گریے کی کیفیت پیدا کی گئی ہے وہ بھی کم دلچسپ نہیں۔

شعر ایک منظر کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ مخاطب کا لہجہ انتباہی بھی ہوسکتا ہے اور التماسی بھی۔ دوسری صورت یہ بنتی ہے کہ خطاب صرف ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو میرؔ کے سرہانے بیٹھ کر یا تو گفتگو کرتے ہیں یا پھر میرؔ کی طبیعت کا حال مخاطب سے پوچھ رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو لوگ مزاج پرسی سرہانے بیٹھ کر کرتے ہیں وہ بیمار کے زیادہ قریبی ہوتے ہیں۔ بہرحال مخاطب کا میر کے سرہانے بیٹھ کر گفتگو کرنے والوں سے کہنا کہ میر کے سرہانے کوئی نہ بولو سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ میر ذرا سی آواز سے بھی جاگ سکتے ہیں۔ ’ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے‘ میں کمال کی ڈرامائیت ہے۔ یعنی مخاطب گواہ ہے کہ میر نے بہت دیر تک گریہ کیا اب تھک ہار کے ابھی ذرا سا سوگئے ہیں۔ ذرا سا جب کہا تو گویا میر ابھی اٹھ کر پھر سے رونا شروع کریں گے۔

شفق سوپوری

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا

ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

عشق معشوق عشق عاشق ہے

یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا

کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

میرؔ بندوں سے کام کب نکلا

مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے

سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں

اس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

تشریح

’’ناکام‘‘ اور ’’کام لیا‘‘ میں رعایت ظاہر ہے۔ پہلے مصرع میں ’’سلیقے‘‘ کا لفظ بہت خوب ہے، کیوں کہ اگر کسی کم کار آمد چیز سے کوئی اہم کام نکال لیا جائے تو کہتے ہیں کہ ’’فلاں کو کام کرنے کا سلیقہ ہے‘‘۔ ’’کام لیا‘‘ بھی بہت خوب ہے، کیوں کہ یہ واضح نہیں کیا کہ ناکامی ہی کو کامیابی سمجھ لیا، اور اس طرح کام نکال لیا، یا ناکامیوں پر صبر کر لیا۔ محبت میں نبھنا بھی خالی ازلطف نہیں، کیونکہ یہاں بھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ معشوق سے نبھی، یا محض زندگی نبھی، یا اپنے آپ سے نبھی۔ بہت بلیغ شعر ہے۔ لہجے میں وقار بھی ہے اور ایک طرح کی چالاکی بھی۔ محمد حسن عسکری نے اس شعر کے بارے میں خوب لکھا ہے کہ ’’میر نفی میں اثبات ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے یہاں شکست تو مل جائے گی، لیکن شکست خوردگی نہیں۔ ان کی افسردگی ایک نئی تلاش کا بہانہ بنتی ہے۔‘‘

’’سلیقہ‘‘ کے معنی ’’عادت، سرشت‘‘ بھی ہیں۔ یہ معنی بھی یہاں مناسب ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں لفظ ’’سلیقہ‘‘ میر نے ایک اور شعر میں خوبی سے استعمال کیا ہے؎

تمنائے دل کے لئے جان دی

سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے

(دیوان اوّل)

شمس الرحمن فاروقی

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے

درد بے اختیار اٹھتا ہے

ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

دل مجھے اس گلی میں لے جا کر

اور بھی خاک میں ملا لایا

گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر

یہ ہماری زبان ہے پیارے

میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے

اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے

اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور

کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

تشریح

امیر یعنی سردار، حاکم، دولت مند۔ غریب یعنی مفلس، بے وطن۔ دولت یعنی دھن، مال، اقبال، نصیب، سلطنت، حکومت، فتح، خوشی، اولاد۔میر کا یہ شعر انسلاکات کی وجہ سے دلچسپ بھی ہے اور عجیب بھی۔ اس شعر میں میرؔ نے مناسبتوں سے خوب مضمون پیدا کیا ہے۔ اس کے تلازمات میں امیر زادوں ، غریب اور دولت بہت معنی خیز ہیں اور پھر ان کی مناسبت دلّی سے بھی خوب ہے۔ میرؔ خود سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ دلّی کے امیر زادوں کی صحبت سے پرہیز کرو کیونکہ ہم ان ہی دولت سے غریب ہوئے ہیں۔ اگر دولت کو محض دھن اور مال کے معنوں میں لیا جائے تو شعر کے معنی یہ بنتے ہیں کہ میرؔ دلّی کے امیر زادوں سے دور رہو کیونکہ ہم ان ہی کے مال و زر سے غریب ہوئے ہیں۔ مگر میر ؔ جس قدر سہل پسند تھے اسی قدر ان کے اشعار میں پیچیدگی اور تہہ داری بھی ہے۔ دراصل میر کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ دلّی کے امیر زادوں کے نصیب اور ان کے اقبال کی وجہ سے خدا ان پر مہربان ہے اور خدا ان کو دولت سے مالا مال کرنا چاہتا ہے اس لئے ہمارے حصے کی دولت بھی ان کو عطا کی جس کی وجہ سے ہم مفلس ہوگئے۔ اگر مارکسزم کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو میر یہ کہتے ہیں کہ چونکہ دلّی کے امیر مادیت پرست ہیں اور دولت جمع کرنے کے لئے کوئی حربہ نہیں چھوڑتے اس لئے انہوں نے ہماری دولت ہم سے لوٹ کر ہمیں غریب بنا دیا ہے۔

شفق سوپوری

اقرار میں کہاں ہے انکار کی سی خوبی

ہوتا ہے شوق غالب اس کی نہیں نہیں پر

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

تشریح

اسی مضمون کو انہیں پیکروں کے ساتھ دیوان اوّل میں ایک جگہ اور لکھا ہے؎

ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں

یہ کارگاہ ساری دکان شیشہ گر ہے

لیکن ’’لے سانس بھی آہستہ۔۔۔‘‘ بہت بہتر شعر ہے، کیونکہ اس میں ’’سانس‘‘ کا لفظ شیشہ گری سے خاص مناسبت رکھتا ہے۔ (پگھلے ہوئے شیشے کو نلکی کے سرے پر رکھ کر پھونکتے ہیں اور اس طرح اسے مختلف شکلیں دیتے ہیں۔) زور کی ہوا چلے تو شیشے کی چیزیں گر کر یا آپس میں ٹکرا کر ٹوٹ جاتی ہیں، اور آفاق کی کارگاہ شیشہ گری میں ایسے نازک کام ہوتے ہیں کہ تیز سانس بھی ان کے لئے زور کی ہوا کا حکم رکھتی ہے۔ ’’ہردم قدم کو اپنے‘‘ میں لفظ ’’دم‘‘ کے ذریعہ سانس کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ’’دم قدم‘‘ میں بھی ایک لطف ہے، لیکن یہ دونوں چیزیں ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘ کے برابر بلاغت کی حامل نہیں ہیں۔ شعر کا مفہوم یہ ہے کہ صاحب نظر کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کی رنگا رنگی اور پیچ در پیچ نزاکت کو دیکھ کر حیرت میں آ جاتا ہے۔ ہر چیز انتظام سے چل رہی ہے، کہیں کوئی انتشار نہیں، معلوم ہوتا ہے کوئی بہت ہی نازک اور پیچیدہ کارخانہ ہے۔ صاحب نظر کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر زور کی سانس بھی لی تو یہ سب درہم برہم ہوجائے گا۔ یا شاید یہ سب کچھ ایک خواب ہے، جو ذرا سے اشارے پر برہم اور منتشر ہوسکتا ہے۔ اقبال کا مندرجہ ذیل شعر میر کے شعر زیر بحث سے براہ راست مستعار معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اقبال کا شعر غیر ضروری وضاحت اور خطابیہ انداز بیان کے باعث ناکام ٹھہرتا ہے؎

زندگی کی رہ میں چل لیکن ذرا بچ بچ کے چل

یہ سمجھ لے کوئی مینا خانہ باردوش ہے

(بانگ درا۔ حصہ سوم)

اقبال کے شعر پر قائم چاند پوری کے ایک شعر کا بھی پرتو نظر آتا ہے۔ ممکن ہے قائم نے بھی میر سے استفادہ کیا ہو، قائم؎

یہ دہر ہے کار گاہ مینا

جو پاؤں رکھے سویاں تو ڈر کر

میر کے شعرِ زیر بحث اور قائم کے مندرجہ بالا شعر پر میں نے ’’شعر غیر شعر اور نثر‘‘ میں بھی کچھ اظہار خیال کیا ہے۔ قائم نے ایک اور جگہ میرسے ملتا جلتا مضمون باندھا ہے؎

غافل قدم کو رکھیو اپنے سنبھال کر یاں

ہر سنگ رہگذر کا دکان شیشہ گر ہے

یہاں قائم کا خطابیہ لہجہ شعر کے زور میں مخل ہے اور مصرع ثانی کا انکشافی انداز بھی لفظ ’’غافل‘‘ کو سنبھالنے کے لئے ناکافی ہے۔

نثار احمد فاروقی نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ اگر اس شعر کو تصوف پر محمول کیا جائے تو اس میں ’’پاس انفاس‘‘ اور ’’ہوش دردم‘‘ کے اشارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ نکتہ دورازکار معلوم ہوتا ہے کیوں کہ پاس انفاس اور ہوش دردم صوفیانہ افکار و اعمال ہیں، ان کے حوالے سے آفاق کے کاموں کا نازک ہونا نہیں ثابت ہوتا۔

شمس الرحمن فاروقی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے