حسن پر شاعری

ہم حسن کو دیکھ سکتے ہیں ،محسوس کرسکتے ہیں اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں لیکن اس کا بیان آسان نہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب حسن دیکھ کر پیدا ہونے والے آپ کے احساسات کی تصویر گری ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ شاعروں نے کتنے اچھوتے اور نئے نئے ڈھنگ سے حسن اور اس کی مختلف صورتوں کو بیان کیا ۔ ہمارا یہ انتخاب آپ کو حسن کو ایک بڑے اور کشادہ کینوس پر دیکھنے کا اہل بھی بنائے گا ۔ آپ اسے پڑھئے اور حسن پرستوں میں عام کیجئے ۔

آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے

مل گیا حسن بے مثال ہمیں

بیخود دہلوی

آئینہ لے کے دیکھ ذرا اپنے حسن کو

آئے گی یہ بہار گلستاں خزاں میں یاد

شاہ نصیر

آؤ حسن یار کی باتیں کریں

زلف کی رخسار کی باتیں کریں

چراغ حسن حسرت

آپ کیا آئے کہ رخصت سب اندھیرے ہو گئے

اس قدر گھر میں کبھی بھی روشنی دیکھی نہ تھی

حکیم ناصر

آسمان اور زمیں کا ہے تفاوت ہر چند

اے صنم دور ہی سے چاند سا مکھڑا دکھلا

حیدر علی آتش

آستیں اس نے جو کہنی تک چڑھائی وقت صبح

آ رہی سارے بدن کی بے حجابی ہاتھ میں

مصحفی غلام ہمدانی

اب تو تیرے حسن کی ہر انجمن میں دھوم ہے

جس نے میرا حال دیکھا تیرا دیوانہ ہوا

جمیل یوسف

ابرو نے مژہ نے نگۂ یار نے یارو

بے‌ رتبہ کیا تیغ کو خنجر کو سناں کو

نامعلوم

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

جس نے ڈالی بری نظر ڈالی

عالمگیر خان کیف

اچھی صورت نظر آتے ہی مچل جاتا ہے

کسی آفت میں نہ ڈالے دل ناشاد مجھے

جلیل مانک پوری

افسردگی بھی حسن ہے تابندگی بھی حسن

ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے

اجتبیٰ رضوی

اگر آ جائے پہلو میں قمرؔ وہ ماہ کامل بھی

دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگی

قمر جلالوی

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

حیدر علی آتش

عجب تیری ہے اے محبوب صورت

نظر سے گر گئے سب خوب صورت

حیدر علی آتش

اللہ اللہ حسن کی یہ پردہ داری دیکھیے

بھید جس نے کھولنا چاہا وہ دیوانہ ہوا

آرزو لکھنوی

اللہ رے صنم یہ تری خود نمائیاں

اس حسن چند روزہ پہ اتنا غرور ہو

خواجہ امامی امانی

اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود

رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

حسرتؔ موہانی

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

منیر نیازی

بڑا وسیع ہے اس کے جمال کا منظر

وہ آئینے میں تو بس مختصر سا رہتا ہے

فرحت احساس

بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام

مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

بشیر بدر

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے

سعید قیس

چاند سے تجھ کو جو دے نسبت سو بے انصاف ہے

چاند کے منہ پر ہیں چھائیں تیرا مکھڑا صاف ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

چاند سی شکل جو اللہ نے دی تھی تم کو

کاش روشن مری قسمت کا ستارا کرتے

جلیل مانک پوری

چاندنی راتوں میں چلاتا پھرا

چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی

رند لکھنوی

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا

چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

انجم عرفانی

داغ جگر کا اپنے احوال کیا سناؤں

بھرتے ہیں اس کے آگے شمع و چراغ پانی

جوشش عظیم آبادی

دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ

مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

دل کے دو حصے جو کر ڈالے تھے حسن و عشق نے

ایک صحرا بن گیا اور ایک گلشن ہو گیا

نوح ناروی

ایک ہی انجام ہے اے دوست حسن و عشق کا

شمع بھی بجھتی ہے پروانوں کے جل جانے کے بعد

اختر مسلمی

گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے

رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

میر تقی میر

ہے سایہ چاندنی اور چاند مکھڑا

دوپٹا آسمان آسماں ہے

خواجہ محمد وزیر لکھنوی

ہیں لازم و ملزوم بہم حسن و محبت

ہم ہوتے نہ طالب جو وہ مطلوب نہ ہوتا

جرأت قلندر بخش

ہمیشہ آگ کے دریا میں عشق کیوں اترے

کبھی تو حسن کو غرق عذاب ہونا تھا

کرامت علی کرامت

ہر حقیقت ہے ایک حسن حفیظؔ

اور ہر حسن اک حقیقت ہے

حفیظ بنارسی

حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا

جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

بشیر بدر

ہم اپنا عشق چمکائیں تم اپنا حسن چمکاؤ

کہ حیراں دیکھ کر عالم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو

بہادر شاہ ظفر

ہم عشق میں ہیں فرد تو تم حسن میں یکتا

ہم سا بھی نہیں ایک جو تم سا نہیں کوئی

لالہ مادھو رام جوہر

ہم اتنی روشنی میں دیکھ بھی سکتے نہیں اس کو

سو اپنے آپ ہی اس چاند کو گہنائے رکھتے ہیں

ظفر اقبال

حسن آفت نہیں تو پھر کیا ہے

تو قیامت نہیں تو پھر کیا ہے

جلیل مانک پوری

حسن آئینہ فاش کرتا ہے

ایسے دشمن کو سنگسار کرو

شیخ ظہور الدین حاتم

حسن اور عشق ہیں دونوں کافر

دونوں میں اک جھگڑا سا ہے

عظیم قریشی

حسن اور عشق کا مذکور نہ ہووے جب تک

مجھ کو بھاتا نہیں سننا کسی افسانے کا

جوشش عظیم آبادی

حسن بنا جب بہتی گنگا

عشق ہوا کاغذ کی ناؤ

ابن صفی

حسن بھی کمبخت کب خالی ہے سوز عشق سے

شمع بھی تو رات بھر جلتی ہے پروانے کے ساتھ

when is poor beauty saved from the

along with the moths all night the flame did surely burn

when is poor beauty saved from the

along with the moths all night the flame did surely burn

بسمل سعیدی

حسن اک دل ربا حکومت ہے

عشق اک قدرتی غلامی ہے

عبد الحمید عدم

حسن ہے کافر بنانے کے لیے

عشق ہے ایمان لانے کے لیے

حیرت گونڈوی

حسن ہر حال میں ہے حسن پراگندہ نقاب

کوئی پردہ ہے نہ چلمن یہ کوئی کیا جانے

عرش ملسیانی

حسن کے ہر جمال میں پنہاں

میری رعنائی خیال بھی ہے

جگر مراد آبادی

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں

دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

پروین شاکر

حسن کو بھی کہاں نصیب جگرؔ

وہ جو اک شے مری نگاہ میں ہے

جگر مراد آبادی

Added to your favorites

Removed from your favorites