Allama Iqbal's Photo'

علامہ اقبال

1877 - 1938 | لاہور, پاکستان

عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' و 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' و 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

غزل 116

اشعار 128

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں

تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

agreed I am not worthy of your vision divine

behold my zeal, my passion see how I wait and pine

قطعہ 3

 

رباعی 10

قصہ 13

کتاب 1142

1985 کا اقبالیاتی ادب ایک جائزہ

 

1986

1986 کا اقبالیاتی ادب ایک جائزہ

 

1988

اے کریٹیکل ایکسپوزیشن آف اقبال پھیلاسپھی

 

1978

اے نیو ایپروچ ٹو اقبال

 

1987

اے وائس فرام دی ایسٹ

دی پوئٹری آف اقبال

1982

آئینہ عجم

 

1927

آئینہ اقبال

تضمینات بر کلام اقبال

1973

آئینہ اقبالیات

جلد-001

1999

آپ بیتی علامہ اقبال

 

2015

آواز اقبال

 

 

تصویری شاعری 22

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ وہ ادب_گہ_محبت وہ نگہ کا تازیانہ یہ بتان_عصر_حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں نہ ادائے_کافرانہ نہ تراش_آزرانہ نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ_فراغت یہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس نہ آشیانہ رگ_تاک منتظر ہے تری بارش_کرم کی کہ عجم کے مے_کدوں میں نہ رہی مے_مغانہ مرے ہم_صفیر اسے بھی اثر_بہار سمجھے انہیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے_عاشقانہ مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا صلۂ_شہید کیا ہے تب_و_تاب_جاودانہ تری بندہ_پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں نہ گلہ ہے دوستوں کا نہ شکایت_زمانہ

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلۂ_محبت کے وہ خار_و_خس کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام_پرورش_آہ_و_نالہ ہے یہ چمن نہ سیر_گل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے رہے_گا راوی و نیل و فرات میں کب تک ترا سفینہ کہ ہے بحر_بیکراں کے لیے نشان_راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو ترس گئے ہیں کسی مرد_راہ_داں کے لیے نگہ بلند سخن دل_نواز جاں پرسوز یہی ہے رخت_سفر میر_کارواں کے لیے ذرا سی بات تھی اندیشۂ_عجم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیب_داستاں کے لیے مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرائیل_آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لا_مکاں کے لیے

ظلام_بحر میں کھو کر سنبھل جا تڑپ جا پیچ کھا_کھا کر بدل جا نہیں ساحل تری قسمت میں اے موج! ابھر کر جس طرف چاہے نکل جا!

ہوئے مدفون_دریا زیر_دریا تیرنے والے طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں طاقت_پرواز مگر رکھتی ہے

ویڈیو 109

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
شاعری

علامہ اقبال

Mohd. Iqbal - Zubaan-e-Ishq

مظفر علی

آڈیو 59

اپنی جولاں_گاہ زیر_آسماں سمجھا تھا میں

اگر کج_رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • جاوید اقبال جاوید اقبال بیٹا

"لاہور" کے مزید شعرا

  • شہزاد احمد شہزاد احمد
  • فیض احمد فیض فیض احمد فیض
  • ظفر اقبال ظفر اقبال
  • ناصر کاظمی ناصر کاظمی
  • حبیب جالب حبیب جالب
  • احمد ندیم قاسمی احمد ندیم قاسمی
  • احسان دانش احسان دانش
  • وصی شاہ وصی شاہ
  • نبیل احمد نبیل نبیل احمد نبیل
  • ساغر صدیقی ساغر صدیقی