Allama Iqbal's Photo'

علامہ اقبال

1877 - 1938 | لاہور, پاکستان

عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' اور 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' اور 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

علامہ اقبال کے شعر

130.4K
Favorite

باعتبار

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے

بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا

میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ

اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا

میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز

اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل

آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے

کہ جن کو ڈوبنا ہے ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

حکیم و عارف و صوفی تمام مست ظہور

کسے خبر کہ تجلی ہے عین مستوری

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور

ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

ہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والے

طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا

میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف

خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر

کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے

سودا گری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے

اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت

یہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس نہ آشیانہ

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی

خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا

سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا

طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم

عصا نہ ہو تو کلیمیؑ ہے کار بے بنیاد

نگاہ عشق دل زندہ کی تلاش میں ہے

شکار مردہ سزاوار شاہباز نہیں

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک