aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

انتظار پر اشعار

انتظار کی کیفیت زندگی

کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں

تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

علامہ اقبال

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

مرزا غالب

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے

اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

فرحت احساس

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

تشریح

اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔

شفق سوپوری

فیض احمد فیض

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

فیض احمد فیض

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں

تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

منیر نیازی

نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید

مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا

فراق گورکھپوری

تیرے آنے کی کیا امید مگر

کیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیں

فراق گورکھپوری

وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے

شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے

فیض احمد فیض

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا

جون ایلیا

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

داغؔ دہلوی

جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں

اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے

گلزار

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا

یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا

ساقی فاروقی

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

جاں نثار اختر

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

پروین شاکر

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے

پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

فیض احمد فیض

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود

ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

اسرار الحق مجاز

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

زہرا نگاہ

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا

تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

فرحت احساس

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا

کیف بھوپالی

آپ کا اعتبار کون کرے

روز کا انتظار کون کرے

داغؔ دہلوی

اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں

ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات

فراق گورکھپوری

ہمیں بھی آج ہی کرنا تھا انتظار اس کا

اسے بھی آج ہی سب وعدے بھول جانے تھے

آشفتہ چنگیزی

کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطف

کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری

حسرتؔ جے پوری

شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی

کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا

مجروح سلطانپوری

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

میر تقی میر

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے

وہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھے

خمار بارہ بنکوی

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

فیض احمد فیض

میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر

سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا

ساحل سحری نینیتالی

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

علامہ اقبال

کوئی اشارہ دلاسا نہ کوئی وعدہ مگر

جب آئی شام ترا انتظار کرنے لگے

وسیم بریلوی

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں

شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی

آنے میں سدا دیر لگاتے ہی رہے تم

جاتے رہے ہم جان سے آتے ہی رہے تم

امام بخش ناسخ

میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

احمد ندیم قاسمی

ہے خوشی انتظار کی ہر دم

میں یہ کیوں پوچھوں کب ملیں گے آپ

نظام رامپوری

تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکو

تمام کھیل محبت میں انتظار کا ہے

منور رانا

کوئی آیا نہ آئے گا لیکن

کیا کریں گر نہ انتظار کریں

فراق گورکھپوری

یہ انتظار نہیں شمع ہے رفاقت کی

اس انتظار سے تنہائی خوبصورت ہے

ارشد عبد الحمید

آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں

اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے

ثاقب لکھنوی

بارہا تیرا انتظار کیا

اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

پروین شاکر

مدت سے خواب میں بھی نہیں نیند کا خیال

حیرت میں ہوں یہ کس کا مجھے انتظار ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

جسے نہ آنے کی قسمیں میں دے کے آیا ہوں

اسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے

جاوید نسیمی

موت کا انتظار باقی ہے

آپ کا انتظار تھا نہ رہا

فانی بدایونی

دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے

اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو

اطہر نفیس

کمال عشق تو دیکھو وہ آ گئے لیکن

وہی ہے شوق وہی انتظار باقی ہے

جلیل مانک پوری

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا

آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا

شہریار

ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔ

دیر تک ان کا انتظار رہا

حبیب جالب

چلے بھی آؤ مرے جیتے جی اب اتنا بھی

نہ انتظار بڑھاؤ کہ نیند آ جائے

محشر عنایتی

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا

اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا

حفیظ ہوشیارپوری

او جانے والے آ کہ ترے انتظار میں

رستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے

خمار بارہ بنکوی

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے