انتظار پر شاعری

انتظار کی کیفیت زندگی کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔

آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں

اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے

ثاقب لکھنوی

آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا

دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا

میر محمدی بیدار

آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی

آج بھی اپنے انتظار میں گم

رسا چغتائی

آنے میں سدا دیر لگاتے ہی رہے تم

جاتے رہے ہم جان سے آتے ہی رہے تم

Delay in arriving always managed to contrive

this world I was leaving, yet you didn't arrive

Delay in arriving always managed to contrive

this world I was leaving, yet you didn't arrive

امام بخش ناسخ

آپ کا اعتبار کون کرے

روز کا انتظار کون کرے

who can depend on what you say?

who will wait each every day?

who can depend on what you say?

who will wait each every day?

داغؔ دہلوی

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے

وہ آ بھی جائیں تو آئے اعتبار مجھے

خمارؔ بارہ بنکوی

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں

شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی

اب خاک اڑ رہی ہے یہاں انتظار کی

اے دل یہ بام و در کسی جان جہاں کے تھے

جون ایلیا

اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی

اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں

گنیش بہاری طرز

ایسی ہی انتظار میں لذت اگر نہ ہو

تو دو گھڑی فراق میں اپنی بسر نہ ہو

ریاضؔ خیرآبادی

اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر

تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

o lord! There are times when such is my raptured state

even though I am with you, and yet for you I wait

o lord! There are times when such is my raptured state

even though I am with you, and yet for you I wait

نریش کمار شاد

بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں

سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا

ادا جعفری

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

Why did you bid me leave from paradise for now

My work is yet unfinished here so you wil have to wait

Why did you bid me leave from paradise for now

My work is yet unfinished here so you wil have to wait

علامہ اقبال

بجائے سینے کے آنکھوں میں دل دھڑکتا ہے

یہ انتظار کے لمحے عجیب ہوتے ہیں

نامعلوم

بارہا تیرا انتظار کیا

اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

پروین شاکر

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

میر تقی میر

چلے بھی آؤ مرے جیتے جی اب اتنا بھی

نہ انتظار بڑھاؤ کہ نیند آ جائے

محشر عنایتی

چمن میں شب کو گھرا ابر نو بہار رہا

حضور آپ کا کیا کیا نہ انتظار رہا

مرزا شوقؔ  لکھنوی

دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے

اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو

اطہر نفیس

دیکھا نہ ہوگا تو نے مگر انتظار میں

چلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ

محمد علوی

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے

اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

فرحت احساس

اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں

ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات

فراق گورکھپوری

فضائے دل پہ کہیں چھا نہ جائے یاس کا رنگ

کہاں ہو تم کہ بدلنے لگا ہے گھاس کا رنگ

احمد مشتاق

غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے

وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے

افتخار عارف

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

داغؔ دہلوی

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

فیض احمد فیض

حد سے گزرا جب انتظار ترا

موت کا ہم نے انتظار کیا

میر علی اوسط رشک

ہے عین وصل میں بھی مری چشم سوئے در

لپکا جو پڑ گیا ہے مجھے انتظار کا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

ہے خوشی انتظار کی ہر دم

میں یہ کیوں پوچھوں کب ملیں گے آپ

نظام رامپوری

ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی

ہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ

مومن خاں مومن

حیراں ہوں اس قدر کہ شب وصل بھی مجھے

تو سامنے ہے اور ترا انتظار ہے

مصحفی غلام ہمدانی

ہمیں بھی آج ہی کرنا تھا انتظار اس کا

اسے بھی آج ہی سب وعدے بھول جانے تھے

آشفتہ چنگیزی

ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے

یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا

افتخار عارف

اس ہوا میں کر رہے ہیں ہم ترا ہی انتظار

آ کہیں جلدی سے ساقی شیشہ و ساغر سمیت

مصحفی غلام ہمدانی

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

زہرا نگاہ

عشق میں یار گر وفا نہ کرے

کیا کرے کوئی اور کیا نہ کرے

ہیبت قلی خاں حسرت

اسی خیال میں ہر شام انتظار کٹی

وہ آ رہے ہیں وہ آئے وہ آئے جاتے ہیں

نظر حیدرآبادی

اتنا میں انتظار کیا اس کی راہ میں

جو رفتہ رفتہ دل مرا بیمار ہو گیا

شیخ ظہور الدین حاتم

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا

جون ایلیا

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے

پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

فیض احمد فیض

جس کو آتے دیکھتا ہوں اے پری کہتا ہوں میں

آدمی بھیجا نہ ہو میرے بلانے کے لیے

خواجہ محمد وزیر لکھنوی

جسے نہ آنے کی قسمیں میں دے کے آیا ہوں

اسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے

جاوید نسیمی

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

فیض احمد فیض

کب وہ آئیں گے الٰہی مرے مہماں ہو کر

کون دن کون برس کون مہینہ ہوگا

مبارک عظیم آبادی

کبھی در پر کبھی ہے رستے میں

نہیں تھکتی ہے انتظار سے آنکھ

بشیر الدین احمد دہلوی

کبھی اس راہ سے گزرے وہ شاید

گلی کے موڑ پر تنہا کھڑا ہوں

جنید حزیں لاری

کبھی تو دیر و حرم سے تو آئے گا واپس

میں مے کدے میں ترا انتظار کر لوں گا

عبد الحمید عدم

کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطف

کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری

let her not come to me and this pleasure destroy

let not my prayers be answered, for waiting is a joy

let her not come to me and this pleasure destroy

let not my prayers be answered, for waiting is a joy

حسرتؔ جے پوری

کمال عشق تو دیکھو وہ آ گئے لیکن

وہی ہے شوق وہی انتظار باقی ہے

جلیل مانک پوری

کٹتے کسی طرح سے نہیں ہائے کیا کروں

دن ہو گئے پہاڑ مجھے انتظار کے

لالہ مادھو رام جوہر

Added to your favorites

Removed from your favorites