موت پر شاعری

موت سب سے بڑی سچائی اور سب سے تلخ حقیقت ہے ۔ اس کے بارے میں انسانی ذہن ہمیشہ سے سوچتا رہا ہے ، سوال قائم کرتا رہا ہے اور ان سوالوں کے جواب تلاش کرتا رہا ہے لیکن یہ ایک ایسا معمہ ہے جو نہ سمجھ میں آتا ہے اور نہ ہی حل ہوتا ہے ۔ شاعروں اور تخلیق کاروں نے موت اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غبار میں سب سے زیادہ ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن حاصل ایک بےاننت اداسی اور مایوسی ہے ۔ عشق میں ناکامی اور ہجر کا دکھ جھیلتے رہنے کی وجہ سے عاشق موت کی تمنا بھی کرتا ہے ۔موت کو شاعری میں برتنے کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب میں دیکھئے ۔

موت کا بھی علاج ہو شاید

زندگی کا کوئی علاج نہیں

for death a cure there well may be

but for this life no remedy

for death a cure there well may be

but for this life no remedy

فراق گورکھپوری

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا

آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت

مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

اکبر الہ آبادی

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

چکبست برج نرائن

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

when for death a day has been ordained

what reason that I cannot sleep all night?

when for death a day has been ordained

what reason that I cannot sleep all night?

مرزا غالب

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد شریف

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

احمد ندیم قاسمی

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

ثاقب لکھنوی

کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں

زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ

فراق گورکھپوری

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

امیر مینائی

رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر

عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا

بشیر بدر

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت آتی ہے پر نہیں آتی

I die yearning as I hope for death

Death does come to me but then not quite

I die yearning as I hope for death

Death does come to me but then not quite

مرزا غالب

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں

prison of life and sorrow's chains in truth are just the same

then relief from pain, ere death,why should man obtain

prison of life and sorrow's chains in truth are just the same

then relief from pain, ere death,why should man obtain

مرزا غالب

بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں

بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

اکبر الہ آبادی

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے

مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

جگر مراد آبادی

ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی

بھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ

بیدم شاہ وارثی

جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں

خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

نظیر صدیقی

انیسؔ دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ

چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے

میر انیس

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں

کیفی اعظمی

کون جینے کے لیے مرتا رہے

لو، سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے

اختر سعید خان

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

رحمان فارس

ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج

ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے

کیف بھوپالی

مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی

شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

نامعلوم

زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت

آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے

احمد امیٹھوی

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

اختر نظمی

ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر

آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے

فانی بدایونی

شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ

اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم

قمر جلالوی

بڑی تلاش سے ملتی ہے زندگی اے دوست

قضا کی طرح پتا پوچھتی نہیں آتی

شان الحق حقی

زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ

موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

جگر مراد آبادی

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی

موت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

جانے کیوں اک خیال سا آیا

میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی

خلیل الرحمن اعظمی

بے تعلق زندگی اچھی نہیں

زندگی کیا موت بھی اچھی نہیں

حفیظ جالندھری

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے

موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے

فانی بدایونی

موت ہی انسان کی دشمن نہیں

زندگی بھی جان لے کر جائے گی

عرش ملسیانی

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں

اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

رئیس فروغ

زندگی سے تو خیر شکوہ تھا

مدتوں موت نے بھی ترسایا

نریش کمار شاد

موت کا انتظار باقی ہے

آپ کا انتظار تھا نہ رہا

فانی بدایونی

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

حیدر علی آتش

موت کیا ایک لفظ بے معنی

جس کو مارا حیات نے مارا

جگر مراد آبادی

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغرؔ

زندگی کی کوئی کڑی ہوگی

ساغر صدیقی

آخر اک روز تو پیوند زمیں ہونا ہے

جامۂ زیست نیا اور پرانا کیسا

لالہ مادھو رام جوہر

وہ جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی تھیں بجلیاں

انہیں کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے

بشیر بدر

تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے

جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی

خلیل الرحمن اعظمی

مٹی کا بدن کر دیا مٹی کے حوالے

مٹی کو کہیں تاج محل میں نہیں رکھا

منور رانا

نیند کو لوگ موت کہتے ہیں

خواب کا نام زندگی بھی ہے

احسن یوسف زئی

زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے

موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں

امن لکھنوی

بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی

مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا

احمد مشتاق

نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا

مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

حیدر علی آتش

موت سے کیوں اتنی وحشت جان کیوں اتنی عزیز

موت آنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے

why this dread of death and why life be held so dear

death is meant to come and life- meant to disappear

why this dread of death and why life be held so dear

death is meant to come and life- meant to disappear

نامعلوم

بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ

کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے

عباس رضوی