Qamar Jalalvi's Photo'

قمر جلالوی

1887 - 1968 | کراچی, پاکستان

پاکستان کے استاد شاعر، کئی مقبول عام شعروں کے خالق

پاکستان کے استاد شاعر، کئی مقبول عام شعروں کے خالق

قمر جلالوی

غزل 54

اشعار 39

ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامد

قمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کی

  • شیئر کیجیے

شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ

اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم

  • شیئر کیجیے

ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم

آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے

پوچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو

سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام

گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لئے

قطعہ 7

کتاب 5

 

تصویری شاعری 1

 

ویڈیو 30

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

قمر جلالوی

ان کے جاتے ہی یہ وحشت کا اثر دیکھا کئے

قمر جلالوی

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست_شراب کی

قمر جلالوی

تم کو ہم خاک_نشینوں کا خیال آنے تک

قمر جلالوی

توبہ کیجے اب فریب_دوستی کھائیں_گے کیا

قمر جلالوی

راز_دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے

قمر جلالوی

سانس ان کے مریض_حسرت کی رک رک کے چلتی جاتی ہے

قمر جلالوی

کب میرا نشیمن اہل_چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

قمر جلالوی

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

قمر جلالوی

یہ درد_ہجر اور اس پر سحر نہیں ہوتی

قمر جلالوی

یہ روز حشر کا اور شکوۂ_وفا کے لئے

قمر جلالوی

آڈیو 10

ابرو تو دکھا دیجئے شمشیر سے پہلے

بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیں

تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI