Parveen Shakir's Photo'

پروین شاکر

1952 - 1994 | کراچی, پاکستان

پاکستان کی مقبول ترین شاعرات میں شامل ، عورتوں کے مخصوص جذبوں کو آواز دینے کے لئے معروف

پاکستان کی مقبول ترین شاعرات میں شامل ، عورتوں کے مخصوص جذبوں کو آواز دینے کے لئے معروف

پروین شاکر

غزل 82

اشعار 109

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں

دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

کتنا تنہا ہوگا چاند

قطعہ 1

 

کتاب 19

انکار

 

1997

انکار

 

 

انکار

 

1990

خود کلامی

 

 

خوشبو

 

1988

خوشبو

 

1980

ماہ تمام

کلیات

1995

ماہ تمام

کلیات

1995

ماہ تمام

کلیات

2008

ماہ تمام

کلیات

1997

تصویری شاعری 27

کھلے_گی اس نظر پہ چشم_تر آہستہ آہستہ کیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہ کوئی زنجیر پھر واپس وہیں پر لے کے آتی ہے کٹھن ہو راہ تو چھٹتا ہے گھر آہستہ آہستہ بدل دینا ہے رستہ یا کہیں پر بیٹھ جانا ہے کہ تھکتا جا رہا ہے ہم_سفر آہستہ آہستہ خلش کے ساتھ اس دل سے نہ میری جاں نکل جائے کھنچے تیر_شناسائی مگر آہستہ آہستہ ہوا سے سرکشی میں پھول کا اپنا زیاں دیکھا سو جھکتا جا رہا ہے اب یہ سر آہستہ آہستہ

میں کیوں اس کو فون کروں! اس کے بھی تو علم میں ہوگا کل شب موسم کی پہلی بارش تھی!

پورا دکھ اور آدھا چاند ہجر کی شب اور ایسا چاند دن میں وحشت بہل گئی رات ہوئی اور نکلا چاند کس مقتل سے گزرا ہوگا اتنا سہما سہما چاند یادوں کی آباد گلی میں گھوم رہا ہے تنہا چاند میری کروٹ پر جاگ اٹھے نیند کا کتنا کچا چاند میرے منہ کو کس حیرت سے دیکھ رہا ہے بھولا چاند اتنے گھنے بادل کے پیچھے کتنا تنہا ہوگا چاند آنسو روکے نور نہائے دل دریا تن صحرا چاند اتنے روشن چہرے پر بھی سورج کا ہے سایا چاند جب پانی میں چہرہ دیکھا تو نے کس کو سوچا چاند برگد کی اک شاخ ہٹا کر جانے کس کو جھانکا چاند بادل کے ریشم جھولے میں بھور سمے تک سویا چاند رات کے شانے پر سر رکھے دیکھ رہا ہے سپنا چاند سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر شبنم تھی یا ننھا چاند ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا اس کی صورت ہجر کا چاند صحرا صحرا بھٹک رہا ہے اپنے عشق میں سچا چاند رات کے شاید ایک بجے ہیں سوتا ہوگا میرا چاند

بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے ہماری زندگی برباد کر کے پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں_گے ہم وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے مگر ہاں منت_صیاد کر کے بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن گیا ہے روح کو آباد کر کے ہر آمر طول دینا چاہتا ہے مقرر ظلم کی میعاد کر کے

اک نام کیا لکھا ترا ساحل کی ریت پر پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی

ننھی لڑکی ساحل کے اتنے نزدیک ریت سے اپنے گھر نہ بنا کوئی سرکش موج ادھر آئی تو تیرے گھر کی بنیادیں تک بہہ جائیں_گی اور پھر ان کی یاد میں تو ساری عمر اداس رہے_گی!

قید میں گزرے_گی جو عمر بڑے کام کی تھی پر میں کیا کرتی کہ زنجیر ترے نام کی تھی جس کے ماتھے پہ مرے بخت کا تارہ چمکا چاند کے ڈوبنے کی بات اسی شام کی تھی میں نے ہاتھوں کو ہی پتوار بنایا ورنہ ایک ٹوٹی ہوئی کشتی مرے کس کام کی تھی وہ کہانی کہ ابھی سوئیاں نکلیں بھی نہ تھیں فکر ہر شخص کو شہزادی کے انجام کی تھی یہ ہوا کیسے اڑا لے گئی آنچل میرا یوں ستانے کی تو عادت مرے گھنشیام کی تھی بوجھ اٹھاتے ہوئے پھرتی ہے ہمارا اب تک اے زمیں_ماں تری یہ عمر تو آرام کی تھی

ویڈیو 50

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

پروین شاکر

پروین شاکر

پروین شاکر

Ab itni saadgi laayen kahaan se

پروین شاکر

Baab-e-hairat se mujhe izn-e-safar hone ko hai

پروین شاکر

Sanaey Anjum o Tasbeehe

پروین شاکر

Taza mohabbaton ka maza

پروین شاکر

پروین شاکر

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے

پروین شاکر

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے

پروین شاکر

باب_حیرت سے مجھے اذن_سفر ہونے کو ہے

پروین شاکر

باب_حیرت سے مجھے اذن_سفر ہونے کو ہے

پروین شاکر

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

پروین شاکر

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

پروین شاکر

تازہ محبتوں کا نشہ جسم_و_جاں میں ہے

پروین شاکر

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

پروین شاکر

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

پروین شاکر

حرف_تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے

پروین شاکر

خیال_و_خواب ہوا برگ_و_بار کا موسم

پروین شاکر

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

پروین شاکر

کو_بہ_کو پھیل گئی بات شناسائی کی

پروین شاکر

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

پروین شاکر

آڈیو 32

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • ثروت حسین ثروت حسین ہم عصر
  • کشور ناہید کشور ناہید ہم عصر
  • شہناز پروین سحر شہناز پروین سحر ہم عصر
  • اعتبار ساجد اعتبار ساجد ہم عصر
  • ذیشان ساحل ذیشان ساحل ہم عصر
  • فرحت احساس فرحت احساس ہم عصر
  • آشفتہ چنگیزی آشفتہ چنگیزی ہم عصر
  • عبید صدیقی عبید صدیقی ہم عصر

"کراچی" کے مزید شعرا

  • آرزو لکھنوی آرزو لکھنوی
  • سلیم احمد سلیم احمد
  • انور شعور انور شعور
  • محشر بدایونی محشر بدایونی
  • قمر جلالوی قمر جلالوی
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی
  • جمال احسانی جمال احسانی