Zeeshan Sahil's Photo'

ذیشان ساحل

1961 - 2008 | کراچی, پاکستان

ممتاز مابعد جدید شاعر۔ اپنی نظموں کے لئے معروف

ممتاز مابعد جدید شاعر۔ اپنی نظموں کے لئے معروف

غزل 14

نظم 134

اشعار 12

گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے

وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے

جو ہمیں پا کے بھی کھونے سے بہت پیچھے تھا

ہم اسے کھو کے بھی پانے سے بہت آگے ہیں

میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں

تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے

کتاب 3

ساری نظمیں

 

2011

وجہ بیگانگی

 

2012

نیا ورق،ممبئی

گوشۂ ذی شان ساحل : شمارہ نمبر-029

2008

 

تصویری شاعری 4

کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو ختم کر دیتا ہے ہر امید ہر امکان کو گیت گاتا بھی نہیں گھر کو سجاتا بھی نہیں اور بدلتا بھی نہیں وہ ساز کو سامان کو اتنے برسوں کی ریاضت سے جو قائم ہو سکا آپ سے خطرہ بہت ہے میرے اس ایمان کو کوئی رکتا ہی نہیں اس کی تسلی کے لیے دیکھتا رہتا ہے دل ہر اجنبی مہمان کو اب تو یہ شاید کسی بھی کام آ سکتا نہیں آپ ہی لے جائیے میرے دل_نادان کو شہر والوں کو تو جیسے کچھ پتا چلتا نہیں روکتا رہتا ہے ساحل روز_و_شب طوفان کو

 

متعلقہ شعرا

  • پروین شاکر پروین شاکر ہم عصر
  • جمال احسانی جمال احسانی ہم عصر
  • جاوید صبا جاوید صبا ہم عصر
  • عارف امام عارف امام ہم عصر

"کراچی" کے مزید شعرا

  • سلیم احمد سلیم احمد
  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی
  • محشر بدایونی محشر بدایونی
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • جمال احسانی جمال احسانی
  • رسا چغتائی رسا چغتائی
  • پروین شاکر پروین شاکر
  • ثروت حسین ثروت حسین