عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی

ذیشان ساحل

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی

ذیشان ساحل

MORE BYذیشان ساحل

    عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی

    یا کسی کی زندگی مٹ جائے گی

    ختم ہو جائے گا جب قصہ حضور

    آپ کی حیرانگی مٹ جائے گی

    آپ بھی روئیں گے شاید زارزار

    پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جائے گی

    ایک دن بجھ جائیں گے یہ مہر و ماہ

    یا نظر کی روشنی مٹ جائے گی

    یا فنا ہو جائیں گی گلیاں تری

    یا مری آواز ہی مٹ جائے گی

    حسن بھی برباد ہو جائے گا دوست

    اور دل کی دلکشی مٹ جائے گی

    اس قدر آباد ہو جائیں گے لوگ

    حسرت تعمیر ہی مٹ جائے گی

    مأخذ :
    • کتاب : Wajah-e-Begangi (Pg. 73)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY