Parveen Shakir's Photo'

پروین شاکر

1952 - 1994 | کراچی, پاکستان

پاکستان کی مقبول ترین شاعرات میں شامل ، عورتوں کے مخصوص جذبوں کو آواز دینے کے لئے معروف

پاکستان کی مقبول ترین شاعرات میں شامل ، عورتوں کے مخصوص جذبوں کو آواز دینے کے لئے معروف

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں

دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے

جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

Till even now in rainy climes, my limbs are aching, sore

The yen to stretch out languidly then comes to the fore

Till even now in rainy climes, my limbs are aching, sore

The yen to stretch out languidly then comes to the fore

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

کتنا تنہا ہوگا چاند

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں

اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

اک نام کیا لکھا ترا ساحل کی ریت پر

پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

How can I say that I have been deserted by my beau

Its true but this will cause me to be shamed for evermore

How can I say that I have been deserted by my beau

Its true but this will cause me to be shamed for evermore

دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں

دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون

رات کے شاید ایک بجے ہیں

سوتا ہوگا میرا چاند

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر

جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا

بارہا تیرا انتظار کیا

اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا

بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکن

وہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لئے

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی

اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لئے

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا

برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا

اس کے یوں ترک محبت کا سبب ہوگا کوئی

جی نہیں یہ مانتا وہ بے وفا پہلے سے تھا

لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب

ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے

اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں

روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں

میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے

پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح

ہاتھ میرے بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فن

بند مجھ پر جب سے اس کے گھر کا دروازہ ہوا

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

رائے پہلے سے بنا لی تو نے

دل میں اب ہم ترے گھر کیا کرتے

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا

ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

ہارنے میں اک انا کی بات تھی

جیت جانے میں خسارا اور ہے

میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی

وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا

بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی

چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی

کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیں

یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ

مجھے میری رضا سے مانگتا ہے

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا

ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

دینے والے کی مشیت پہ ہے سب کچھ موقوف

مانگنے والے کی حاجت نہیں دیکھی جاتی

کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن

تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے

چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

ابر برسے تو عنایت اس کی

شاخ تو صرف دعا کرتی ہے

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں

اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں

اس نے مجھے دراصل کبھی چاہا ہی نہیں تھا

خود کو دے کر یہ بھی دھوکا، دیکھ لیا ہے

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا

مرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

The news of our affinity has spread to every door

He welcomed me like fragrance which he did adore

The news of our affinity has spread to every door

He welcomed me like fragrance which he did adore

کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہئے

پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہئے

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی