دوست پر شاعری

شاعری ،یا یہ کہاجائے کہ اچھا تخلیقی ادب ہم کو ہمارے عام تجربات اور تصورات سے الگ ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے وہ ہمیں ان منطقوں سے آگاہ کرتا ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی سے الگ ہوتے ہیں ۔ کیا آپ دوست اور دوستی کے بارے ان باتوں سے واقف ہیں جن کو یہ شاعری موضوع بناتی ہے ؟ دوست ، اس کی فطرت اس کے جذبات اور ارادوں کا یہ شعری بیانہ آپ کیلئے حیرانی کا باعث ہوگا ۔ اسے پڑھئے اور اپنے آس پاس پھیلے ہوئے دوستوں کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کیجئے ۔

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

احمد فراز

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

bear enmity with all your might, but this we should decide

if ever we be friends again, we are not mortified

bear enmity with all your might, but this we should decide

if ever we be friends again, we are not mortified

بشیر بدر

دوستی جب کسی سے کی جائے

دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

راحتؔ اندوری

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے

کیف بھوپالی

دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا

دوستوں کو آزماتے جائیے

خمارؔ بارہ بنکوی

دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب

میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

may my friends too receive this wealth of pain

I cannot envisage my solitary gain

may my friends too receive this wealth of pain

I cannot envisage my solitary gain

حفیظ جالندھری

تیری باتیں ہی سنانے آئے

دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

احمد فراز

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا

جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

جون ایلیا

دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں

دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

I do nor fear injury from my enemies

what frightens me is my friend's fidelities

I do nor fear injury from my enemies

what frightens me is my friend's fidelities

حفیظ بنارسی

دوستی عام ہے لیکن اے دوست

دوست ملتا ہے بڑی مشکل سے

friendship is commonplace my dear

but friends are hard to find I fear

friendship is commonplace my dear

but friends are hard to find I fear

حفیظ ہوشیارپوری

دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں

دوستوں کی مہربانی چاہئے

my heartbreak's not complete, it pends

I need some favours from my friends

my heartbreak's not complete, it pends

I need some favours from my friends

عبد الحمید عدم

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا

جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

ناصر کاظمی

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا

جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

قتیل شفائی

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

مرزا غالب

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

حبیب جالب

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

احمد فراز

دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں

دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون

پروین شاکر

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

My companion, my intimate, be not a friend and yet betray

The pain of love is fatal now, for my life please do not pray

My companion, my intimate, be not a friend and yet betray

The pain of love is fatal now, for my life please do not pray

شکیل بدایونی

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے

یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

شکیل بدایونی

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن

جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

سہیل عظیم آبادی

نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر

کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے

بشیر بدر

عیش کے یار تو اغیار بھی بن جاتے ہیں

دوست وہ ہیں جو برے وقت میں کام آتے ہیں

نامعلوم

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے

دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

ماہر القادری

پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے

نہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا

فاضل جمیلی

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

Is this trouble not enough, to ruin one what else should be

If you are someone's friend then why needs heaven be his enemy

Is this trouble not enough, to ruin one what else should be

If you are someone's friend then why needs heaven be his enemy

مرزا غالب

احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں

آتے ہیں مگر دل کو دکھانے نہیں آتے

بشیر بدر

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

حفیظ جالندھری

ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی

وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی

دوستوں سے ملاقات کی شام ہے

یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

مظہر امام

اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی

جب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے

کیف بھوپالی

الٰہی مرے دوست ہوں خیریت سے

یہ کیوں گھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی

وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم

دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

قتیل شفائی

جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا

دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو

لالہ مادھو رام جوہر

اے دوست تجھ کو رحم نہ آئے تو کیا کروں

دشمن بھی میرے حال پہ اب آب دیدہ ہے

لالہ مادھو رام جوہر

بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن

جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے

اطہر نفیس

یاد کرنے پہ بھی دوست آئے نہ یاد

دوستوں کے کرم یاد آتے رہے

خمارؔ بارہ بنکوی

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے

احمد فراز

جس بزم میں ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو

رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو

نامعلوم

دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا ہے

دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد

خمارؔ بارہ بنکوی

بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں

محبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے

کلیم عاجز

دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر

دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا

حیدر علی آتش

زمانوں بعد ملے ہیں تو کیسے منہ پھیروں

مرے لیے تو پرانی شراب ہیں مرے دوست

لیاقت علی عاصم

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن

زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

عرشؔ کس دوست کو اپنا سمجھوں

سب کے سب دوست ہیں دشمن کی طرف

عرش ملسیانی

ترتیب دے رہا تھا میں فہرست دشمنان

یاروں نے اتنی بات پہ خنجر اٹھا لیا

فنا نظامی کانپوری

دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میں

جتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

ہم کو اغیار کا گلا کیا ہے

زخم کھائیں ہیں ہم نے یاروں سے

why should enemies be my reason to complain

when at the hands of friends, I have suffered pain

why should enemies be my reason to complain

when at the hands of friends, I have suffered pain

ساحر ہوشیار پوری

آ گیا جوہرؔ عجب الٹا زمانہ کیا کہیں

دوست وہ کرتے ہیں باتیں جو عدو کرتے نہیں

لالہ مادھو رام جوہر

سچ کہتے ہیں کہ نام محبت کا ہے بڑا

الفت جتا کے دوست کو دشمن بنا لیا

جوش لکھنوی

اپنے بیگانے سے اب مجھ کو شکایت نہ رہی

دشمنی کر کے مرے دوست نے مارا مجھ کو

ارشد علی خان قلق