Mahirul Qadri's Photo'

ماہر القادری

1906 - 1978 | کراچی, پاکستان

غزل 17

نظم 1

 

اشعار 10

یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں

غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

  • شیئر کیجیے

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے

دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

ابتدا وہ تھی کہ جینے کے لیے مرتا تھا میں

انتہا یہ ہے کہ مرنے کی بھی حسرت نہ رہی

At the start, life prolonged,was my deep desire

now at the end, even for death, I do not aspire

At the start, life prolonged,was my deep desire

now at the end, even for death, I do not aspire

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 105

در یتیم

 

1971

در یتیم

 

2010

فردوس

 

1955

کاروان حجاز

 

 

کردار

 

1944

کلیات ماہر

 

1994

ماہر القادری کے سو شعر

 

 

محسوسات ماہر

 

1943

نغمات ماہر

 

1943

نغمات ماہر

 

1944

تصویری شاعری 2

ذرا دریا کی تہہ تک تو پہنچ جانے کی ہمت کر تو پھر اے ڈوبنے والے کنارا ہی کنارا ہے

یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

 

آڈیو 9

ابھی دشت_کربلا میں ہے بلند یہ ترانہ

اگر فطرت کا ہر انداز بیباکانہ ہو جائے

اے نگاہ_دوست یہ کیا ہو گیا کیا کر دیا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا متعلقہ

  • اختر شیرانی اختر شیرانی ہم عصر
  • احسان دانش احسان دانش ہم عصر
  • عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم ہم عصر

شعرا کے مزید "کراچی"

  • اعجاز گل اعجاز گل
  • صابر وسیم صابر وسیم
  • عزیز فیصل عزیز فیصل
  • محمد حنیف رامے محمد حنیف رامے
  • انوار فطرت انوار فطرت
  • عباس رضوی عباس رضوی
  • عباس دانا عباس دانا
  • سرفراز شاہد سرفراز شاہد
  • ادیب سہارنپوری ادیب سہارنپوری
  • شبیر شاہد شبیر شاہد