Ibn e Insha's Photo'

ابن انشا

1927 - 1978 | کراچی, پاکستان

ممتاز پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ کل چودھویں کی رات تھی‘ کے لئے مشہور

ممتاز پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ کل چودھویں کی رات تھی‘ کے لئے مشہور

غزل 29

اشعار 31

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

T'was a full moon out last night, all evening there was talk of you

Some people said it was the moon,and some said that it was you

اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو

پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو

  • شیئر کیجیے

کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوست

ہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا

  • شیئر کیجیے

رات آ کر گزر بھی جاتی ہے

اک ہماری سحر نہیں ہوتی

اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ

تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بیچاروں کا

اقوال 11

جب کوئی چیز نایاب یا مہنگی ہوجاتی ہے تو اس کابدل نکل ہی آتا ہے جیسے بھینس کانعم البدل مونگ پھلی۔ آپ کو تو گھی سے مطلب ہے۔ کہیں سے بھی آئے۔ اب وہ مرحلہ آگیا ہے کہ ہمارے ہاں بکرے اور دنبے کی صنعت بھی قائم ہو۔ آپ بازار میں گئے اور دکاندار نے ڈبا کھولا کہ جناب یہ لیجیے بکرا اور یہ لیجیے پمپ سے ہوا اس میں خود بھر لیجیے۔ کھال اس بکرے کی کیریلین کی ہے۔ اور اندر کمانیاں اسٹین لیس اسٹیل کی۔ مغز میں فوم ربڑ ہے۔ واش اینڈ ویر ہونے کی گارنٹی ہے۔ باہر صحن میں بارش یا اوس میں بھی کھڑاکر دیجیے تو کچھ نہ بگڑے گا۔ ہوا نکال کر ریفریجریٹر میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔ آج کل قربانی والے یہی لے جاتے ہیں۔

  • شیئر کیجیے

اوسط کا مطلب بھی لوگ غلط سمجھتے ہیں۔ ہم بھی غلط سمجھتے تھے۔ جاپان میں سنا تھا کہ ہر دوسرے آدمی کے پاس کار ہے۔ ہم نے ٹوکیو میں پہلے آدمی کی بہت تلاش کی لیکن ہمیشہ دوسرا ہی آدمی ملا۔ معلوم ہوا پہلے آدمی دور دراز کے دیہات میں رہتے ہیں۔

  • شیئر کیجیے

کسی دانا یا نادان کا مقولہ ہے کہ جھوٹ کے تین درجے ہیں۔ جھوٹ، سفید جھوٹ اور اعداد و شمار۔

  • شیئر کیجیے

سچ یہ ہے کہ کاہلی میں جو مزہ ہے وہ کاہل ہی جانتے ہیں۔ بھاگ دوڑ کرنے والے اور صبح صبح اٹھنے والے اور ورزش پسند اس مزے کو کیا جانیں۔

  • شیئر کیجیے

ایک زمانہ تھا کہ ہم قطب بنے اپنے گھر میں بیٹھے رہتے تھے اور ہمارا ستارہ گردش میں رہا کرتا تھا۔ پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم خود گردش میں رہنے لگے اور ہمارے ستارے نے کراچی میں بیٹھے بیٹھے آب و تاب سے چمکنا شروع کردیا۔ پھر اخبار جنگ میں ’’آج کا شاعر‘‘ کے عنوان سے ہماری تصویر اور حالات چھپے۔ چونکہ حالات ہمارے کم تھے لہٰذا ان لوگوں کو تصویر بڑی کراکے چھاپنی پڑی اور قبول صورت، سلیقہ شعار، پابند صوم و صلوٰۃ اولادوں کے والدین نے ہماری نوکری، تنخواہ اور چال چلن کے متعلق معلومات جمع کرنی شروع کردیں۔ یوں عیب بینوں اور نکتہ چینیوں سے بھی دنیا خالی نہیں۔ کسی نے کہا یہ شاعر تو ہیں لیکن آج کے نہیں۔ کوئی بے درد بولا، یہ آج کے تو ہیں لیکن شاعر نہیں۔ ہم بددل ہوکر اپنے عزیز دوست جمیل الدین عالی کے پاس گئے۔ انہوں نے ہماری ڈھارس بندھائی اور کہا دل میلا مت کرو۔ یہ دونوں فریق غلطی پر ہیں۔ ہم تو نہ تمہیں شاعر جانتے ہیں نہ آج کا مانتے ہیں۔ ہم نے کسمساکر کہا، یہ آپ کیا فرمارہے ہیں؟ بولے، میں جھوٹ نہیں کہتا اور یہ رائے میری تھوڑی ہے سبھی سمجھ دار لوگوں کی ہے۔

  • شیئر کیجیے

طنز و مزاح 31

کتاب 29

آپ سے کیا پردہ

 

 

آوارہ گرد کی ڈائری

 

1974

آوارہ گرد کی ڈائری

 

2008

بلو کا بستہ

 

1996

چلتے ہو تو چین کو چلئے

 

1979

چلتے ہو تو چین کو چلیے

 

1981

چاند نگر

 

1987

چاند نگر

 

1955

دل وحشی

 

 

دنیا گول ہے

 

1982

تصویری شاعری 5

فرض کرو ہم اہل_وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ_مچ کے مے_خانے ہوں فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو کون دلوں کی جانے 'ہو' بستی بستی صحرا صحرا لاکھوں کریں دوانے 'ہو' جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں کاسہ لیے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں ان میں سچے موتی بھی ہیں، ان میں کنکر پتھر بھی ان میں اتھلے پانی بھی ہیں، ان میں گہرے ساگر بھی گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا 'ہو' ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا 'ہو'

 

ویڈیو 24

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

ابن انشا

ابن انشا

اس بستی کے اک کوچے میں

اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا ابن انشا

جلوہ_نمائی بے_پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے

ابن انشا

فرض کرو

فرض کرو ہم اہل_وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں ابن انشا

کچھ دے اسے رخصت کر

کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہے ابن انشا

آڈیو 18

اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے_گا

انشاؔ_جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا

جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

مزید دیکھیے

"کراچی" کے مزید شعرا

  • پروین شاکر پروین شاکر
  • آرزو لکھنوی آرزو لکھنوی
  • سلیم احمد سلیم احمد
  • انور شعور انور شعور
  • شبنم شکیل شبنم شکیل
  • دلاور فگار دلاور فگار
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • عبید اللہ علیم عبید اللہ علیم
  • زہرا نگاہ زہرا نگاہ
  • سلیم کوثر سلیم کوثر