Ibn e Insha's Photo'

ابن انشا

1927 - 1978 | کراچی, پاکستان

ممتاز پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ کل چودھویں کی رات تھی‘ کے لئے مشہور

ممتاز پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ کل چودھویں کی رات تھی‘ کے لئے مشہور

6.4K
Favorite

باعتبار

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

T'was a full moon out last night, all evening there was talk of you

Some people said it was the moon,and some said that it was you

کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوست

ہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا

اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو

پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو

رات آ کر گزر بھی جاتی ہے

اک ہماری سحر نہیں ہوتی

ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے

تو یاد رہے گا ہمیں ہاں یاد رہے گا

حسن سب کو خدا نہیں دیتا

ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی

وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں

اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو

اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ

تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بیچاروں کا

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو

اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے

دشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلے

ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی

سیکڑوں در تھے مری جاں ترے در سے پہلے

گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں من میں کیا کیا موسم ہیں

اس بغیا کے بھید نہ کھولو سیر کرو خاموش رہو

ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہے

ایک ہمیں ہشیار تھے یارو ایک ہمیں بد نام ہوئے

انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا

وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر

جنگل ترے پربت ترے بستی تری صحرا ترا

I should leave your street and go, become a dervish, though

Forests mountains deserts towns are yours where do I go

بیکل بیکل رہتے ہو پر محفل کے آداب کے ساتھ

آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے بھولے بھی بن جاتے ہو

اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں

ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا

Who should I meet in this town, all company I eschew

Every one now just talks of you, each one crazy for you

کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہو

اے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہو

آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئی

لب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہوا

بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا صبر و سکوں

تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے

دیدہ و دل نے درد کی اپنے بات بھی کی تو کس سے کی

وہ تو درد کا بانی ٹھہرا وہ کیا درد بٹائے گا

ایک دن دیکھنے کو آ جاتے

یہ ہوس عمر بھر نہیں ہوتی

یوں ہی تو نہیں دشت میں پہنچے یوں ہی تو نہیں جوگ لیا

بستی بستی کانٹے دیکھے جنگل جنگل پھول میاں

جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے

دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا

اہل وفا سے ترک تعلق کر لو پر اک بات کہیں

کل تم ان کو یاد کرو گے کل تم انہیں پکارو گے

حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا

تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو خاموش رہو

جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے

کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہے

وحشت دل کے خریدار بھی ناپید ہوئے

کون اب عشق کے بازار میں کھولے گا دکاں

میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرور

شام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کرو

سن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ نکالی نہر

ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے کیوں ہو طول میاں

ہم گھوم چکے بستی بن میں

اک آس کی پھانس لیے من میں