چاند پر شاعری

چاند کواس کی خوبصورتی ، اس کے روشن نظارے اورمحبوب سے اس کی مشابہت کی وجہ سے کثرت سے شاعری کا موضوع بنایا گیا ہے ۔ شاعروں نے بہت دلچسپ اندازمیں ایسے شعربھی کہے ہیں جن میں چاند اورمحبوب کے حسن کے درمیان مقابلہ آرائی کا عنصرموجود ہے ۔

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا

افتخار نسیم

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

T'was a full moon out last night, all evening there was talk of you

Some people said it was the moon,and some said that it was you

ابن انشا

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

کتنا تنہا ہوگا چاند

پروین شاکر

عید کا چاند تم نے دیکھ لیا

چاند کی عید ہو گئی ہوگی

نامعلوم

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

میر تقی میر

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

نامعلوم

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

فرحت احساس

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا

تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

فرحت احساس

رات کے شاید ایک بجے ہیں

سوتا ہوگا میرا چاند

پروین شاکر

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے

تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

بشیر بدر

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

اظہر عنایتی

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال

وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

نامعلوم

ہم سفر ہو تو کوئی اپنا سا

چاند کے ساتھ چلو گے کب تک

شہرت بخاری

گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر

اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

میر تقی میر

چاند سے تجھ کو جو دے نسبت سو بے انصاف ہے

چاند کے منہ پر ہیں چھائیں تیرا مکھڑا صاف ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے

اک چاند فلک پر نکلا ہو اک چاند سر بام آ جائے

انور مرزاپوری

فلک پہ چاند ستارے نکلنے ہیں ہر شب

ستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاند

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

چاند کا حسن بھی زمین سے ہے

چاند پر چاندنی نہیں ہوتی

ابن صفی

رات کو روز ڈوب جاتا ہے

چاند کو تیرنا سکھانا ہے

بیدل حیدری

وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔ

کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے

قمر جلالوی

وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں

اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو

ابن انشا

سب ستارے دلاسہ دیتے ہیں

چاند راتوں کو چیختا ہے بہت

آلوک مشرا

اک دیوار پہ چاند ٹکا تھا

میں یہ سمجھا تم بیٹھے ہو

بشیر بدر

چاند خاموش جا رہا تھا کہیں

ہم نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی

محمود ایاز

بارش کے بعد رات سڑک آئنہ سی تھی

اک پاؤں پانیوں پہ پڑا چاند ہل گیا

خواجہ حسن عسکری

مجھ کو معلوم ہے محبوب پرستی کا عذاب

دیر سے چاند نکلنا بھی غلط لگتا ہے

احمد کمال پروازی

تم جسے چاند کہتے ہو وہ اصل میں

آسماں کے بدن پر کوئی گھاؤ ہے

تری پراری

ہاتھ میں چاند جہاں آیا مقدر چمکا

سب بدل جائے گا قسمت کا لکھا جام اٹھا

بشیر بدر

یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے

بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں

سید یوسف علی خاں ناظم

دور کے چاند کو ڈھونڈو نہ کسی آنچل میں

یہ اجالا نہیں آنگن میں سمانے والا

ندا فاضلی

پاؤں ساکت ہو گئے ثروتؔ کسی کو دیکھ کر

اک کشش مہتاب جیسی چہرۂ دل بر میں تھی

ثروت حسین

آسمان اور زمیں کا ہے تفاوت ہر چند

اے صنم دور ہی سے چاند سا مکھڑا دکھلا

حیدر علی آتش

رات اک شخص بہت یاد آیا

جس گھڑی چاند نمودار ہوا

عزیز احمد خاں شفق

کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

احمد مشتاق

لطف شب مہ اے دل اس دم مجھے حاصل ہو

اک چاند بغل میں ہو اک چاند مقابل ہو

مرزا محمد تقی ہوسؔ

ایسا ہو زندگی میں کوئی خواب ہی نہ ہو

اندھیاری رات میں کوئی مہتاب ہی نہ ہو

خلیل مامون

رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمرؔ

اس چاندنی میں ان کو بلانے کو جائے کون

قمر جلالوی

چاند میں کیسے نظر آئے تری صورت مجھے

آندھیوں سے آسماں کا رنگ میلا ہو گیا

افضل منہاس

چاند میں تو نظر آیا تھا مجھے

میں نے مہتاب نہیں دیکھا تھا

عبدالرحمان مومن

پوچھنا چاند کا پتا آذرؔ

جب اکیلے میں رات مل جائے

بلوان سنگھ آذر

مجھے یہ ضد ہے کبھی چاند کو اسیر کروں

سو اب کے جھیل میں اک دائرہ بنانا ہے

شہباز خواجہ

ہر رنگ ہے تیرے آگے پھیکا

مہتاب ہے پھول چاندنی کا

جلیل مانک پوری

کون ثانی شہر میں اس میرے ماہ پارے کی ہے

چاند سی صورت دوپٹہ سر پہ یک تارے کا ہے

عبدالرحمان احسان دہلوی

مجھے اس خواب نے اک عرصہ تک بے تاب رکھا ہے

اک اونچی چھت ہے اور چھت پر کوئی مہتاب رکھا ہے

خاور اعجاز

چاند میں تو نظر آیا تھا مجھے

میں نے مہتاب نہیں دیکھا تھا

عبدالرحمان مومن

وہ جگنو ہو ستارہ ہو کہ آنسو

اندھیرے میں سبھی مہتاب سے ہیں

اختر شاہجہانپوری

ہم نے اس چہرے کو باندھا نہیں مہتاب مثال

ہم نے مہتاب کو اس رخ کے مماثل باندھا

افتخار مغل

اک چاند ہے آوارہ و بیتاب و فلک تاب

اک چاند ہے آسودگیٔ ہجر کا مارا

سید امین اشرف

پھول باہر ہے کہ اندر ہے مرے سینے میں

چاند روشن ہے کہ میں آپ ہی تابندہ ہوں

احمد شناس

ہر رنگ ہے تیرے آگے پھیکا

مہتاب ہے پھول چاندنی کا

جلیل مانک پوری