غزل 18

اشعار 12

مجھے اس خواب نے اک عرصہ تک بے تاب رکھا ہے

اک اونچی چھت ہے اور چھت پر کوئی مہتاب رکھا ہے

مرے صحن پر کھلا آسمان رہے کہ میں

اسے دھوپ چھاؤں میں بانٹنا نہیں چاہتا

ہاتھ لگاتے ہی مٹی کا ڈھیر ہوئے

کیسے کیسے رنگ بھرے تھے خوابوں میں

جہاں تم ہو وہاں سے دور پڑتی ہے زمیں میری

جہاں میں ہوں وہاں سے آسماں نزدیک پڑتا ہے

سنا رہی ہے جسے جوڑ جوڑ کر دنیا

تمام ٹکڑے ہیں وہ میری داستان کے ہی

کتاب 3

نیرنگ غزل

حصہ-001

2018

نیرنگ غزل

حصہ-002

2018

نیرنگ غزل

حصہ-003

2018

 

آڈیو 6

درون_جاں کا شگوفہ جلا ہوا نکلا

مجھے اس خواب نے اک عرصہ تک بے_تاب رکھا ہے

مکاں نزدیک ہے یا لا_مکاں نزدیک پڑتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"اسلام آباد" کے مزید شعرا

  • احمد فراز احمد فراز
  • افتخار عارف افتخار عارف
  • سید ضمیر جعفری سید ضمیر جعفری
  • ضیا جالندھری ضیا جالندھری
  • کشور ناہید کشور ناہید
  • حارث خلیق حارث خلیق
  • طارق نعیم طارق نعیم
  • نور بجنوری نور بجنوری
  • سرفراز زاہد سرفراز زاہد
  • توصیف تبسم توصیف تبسم