زمیں کے ہاتھ میں ہوں اور نہ آسمان کے ہی

خاور اعجاز

زمیں کے ہاتھ میں ہوں اور نہ آسمان کے ہی

خاور اعجاز

MORE BYخاور اعجاز

    زمیں کے ہاتھ میں ہوں اور نہ آسمان کے ہی

    پڑا ہوا ہوں میں ایسی جگہ پہ جان کے ہی

    نہ ہم سے کہتے ہیں کچھ اور نہ ہم سے سنتے ہیں

    یہ آدمی ہیں کسی دوسرے جہان کے ہی

    ترے جہان کے جھگڑوں میں ہاتھ کیوں ڈالوں

    مجھے بہت ہیں بکھیڑے مرے مکان کے ہی

    سنا رہی ہے جسے جوڑ جوڑ کر دنیا

    تمام ٹکڑے ہیں وہ میری داستان کے ہی

    ترے فلک پہ ہے کیا اور بھی کوئی روشن

    چمک رہے ہیں ستارے تو خاکدان کے ہی

    ہمیں جو مان رہے ہیں زباں سے بھی اپنی

    اس انتہا پہ وہ آئے ہیں دل سے مان کے ہی

    کسی سے کوئی نہیں باز پرس دنیا میں

    زمانہ پیچھے پڑا ہے ہماری جان کے ہی

    تو کیا تجھے بھی کوئی اور کام باقی نہیں

    جو ہم پہ رہنے لگے دن یہ امتحان کے ہی

    مگر یہ قتل کی سازش کہاں سے آ نکلی

    وہ خط وہ لوگ تو تھے میرے خاندان کے ہی

    سو بند کرنا پڑا مجھ کو کاروبار حیات

    وہ آ کے بیٹھ گیا سامنے دکان کے ہی

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 451)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے