Sahir Ludhianvi's Photo'

ساحر لدھیانوی

1921 - 1980 | ممبئی, ہندوستان

اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار

اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار

غزل 53

اشعار 100

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

  • شیئر کیجیے

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے

چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

  • شیئر کیجیے

قطعہ 4

 

قصہ 3

 

گیت 49

کتاب 48

آؤ کہ کوئی خواب بنیں

 

1979

آؤ کہ خوئی خواب بنیں

 

1973

بچے من کےسچے

 

1998

دھرتی کے آنسو

 

 

گاتا جائے بنجارا

 

1964

گاتا جائے بنجارا

 

1974

گاتا جائے بنجارا

 

 

گاتا جائے بنجارا

 

1958

کلام ساحر لدھیانوی

 

2000

کلیات ساحر

 

1995

تصویری شاعری 33

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم_بد_حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی یہ بستی ہے مردہ_پرستوں کی بستی یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جوانی بھٹکتی ہے بد_کار بن کر جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں وہ پھول کھل کے رہیں_گے جو کھلنے والے ہیں

تمہارا نام کسی اجنبی کے لب پر تھا ذرا سی بات تھی دل کو مگر لگی ہے بہت

ویڈیو 47

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
آج کی رات مرادوں کی برات آئی ہے

محمد رفیع

اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو

نامعلوم

اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے

محمد رفیع

اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروں

بھارتھی وشواناتھن

اے شریف انسانو

خون اپنا ہو یا پرایا ہو توصیف اختر

اے شریف انسانو

خون اپنا ہو یا پرایا ہو ذوالفقار علی بخاری

بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کے

نامعلوم

برباد_محبت کی دعا ساتھ لیے جا

محمد رفیع

بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہے

مکیش

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے

محمد رفیع

پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے

محمد رفیع

تم اپنا رنج_و_غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

رادھکا چوپڑا

تنگ آ چکے ہیں کشمکش_زندگی سے ہم

محمد رفیع

تو ہندو بنے_گا نہ مسلمان بنے_گا

تو ہندو بنے_گا نہ مسلمان بنے_گا محمد رفیع

جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی

محمد رفیع

جرم_الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں

رادھکا چوپڑا

جو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیں

محمد رفیع

جیون کے سفر میں راہی

کشور کمار

چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے

آشا بھوسلے

خوبصورت موڑ

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں مہیندر کپور

خودکشی سے پہلے

اف یہ بے_درد سیاہی یہ ہوا کے جھونکے Urdu Studio

دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ

محمد رفیع

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے

کشور کمار

زندگی_بھر نہیں بھولے_گی وہ برسات کی رات

محمد رفیع

سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو

محمد رفیع

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں

بھارتی وشوناتھن

سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ_گے

لتا منگیشکر

سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے

نامعلوم

شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے

محمد رفیع

غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم

لتا منگیشکر

متاع_غیر

میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی Urdu Studio

مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں

محمد رفیع

ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی

لتا منگیشکر

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں_گا

انوپ جلوٹا

میں جاگوں ساری رین سجن تم سو جاؤ

لتا منگیشکر

میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا

محمد رفیع

نظر سے دل میں سمانے والے مری محبت ترے لیے ہے

آشا بھوسلے

نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لیے

محمد رفیع

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

محمد رفیع

کبھی کبھی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے سمیر کھیرا

کبھی کبھی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے مکیش

ہوس_نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں

بھارتی وشوناتھن

یہ دنیا دو_رنگی ہے

محمد رفیع

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا محمد رفیع

یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں

محمد رفیع

آڈیو 37

تم اپنا رنج_و_غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ

اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • تنویر نقوی تنویر نقوی ہم عصر
  • سلام ؔمچھلی شہری سلام ؔمچھلی شہری ہم عصر
  • جگن ناتھ آزاد جگن ناتھ آزاد ہم عصر
  • اسرار الحق مجاز اسرار الحق مجاز ہم عصر
  • مخدومؔ محی الدین مخدومؔ محی الدین ہم عصر
  • مجروح سلطانپوری مجروح سلطانپوری ہم عصر
  • عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم ہم عصر
  • خلیل الرحمن اعظمی خلیل الرحمن اعظمی ہم عصر
  • کیفی اعظمی کیفی اعظمی ہم عصر
  • سجاد ظہیر سجاد ظہیر ہم عصر

"ممبئی" کے مزید شعرا

  • شکیل بدایونی شکیل بدایونی
  • اختر الایمان اختر الایمان
  • جاوید اختر جاوید اختر
  • گلزار گلزار
  • ندا فاضلی ندا فاضلی
  • قیصر الجعفری قیصر الجعفری
  • عبد الاحد ساز عبد الاحد ساز
  • ذاکر خان ذاکر ذاکر خان ذاکر
  • راجیش ریڈی راجیش ریڈی
  • میراجی میراجی