Sahir Ludhianvi's Photo'

ساحر لدھیانوی

1921 - 1980 | ممبئی, ہندوستان

اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار

اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار

غزل 53

اشعار 100

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

  • شیئر کیجیے

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے

چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

  • شیئر کیجیے

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں

وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

  • شیئر کیجیے

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

قطعہ 4

 

قصہ 3

 

گیت 49

کتاب 48

آؤ کہ کوئی خواب بنیں

 

1979

آؤ کہ خوئی خواب بنیں

 

1973

بچے من کےسچے

 

1998

دھرتی کے آنسو

 

 

گاتا جائے بنجارا

 

1964

گاتا جائے بنجارا

 

1974

گاتا جائے بنجارا

 

 

گاتا جائے بنجارا

 

1958

کلام ساحر لدھیانوی

 

2000

کلیات ساحر

 

1998

تصویری شاعری 33

میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشان سی تھی اب تو ہر سانس گراں_بار ہوئی جاتی ہے میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے کبھی اپنی سی کبھی غیر نظر آئی ہے کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں ان تمناؤں کا اظہار کروں یا نہ کروں تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہک تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں ڈھونڈتی رہتی ہیں تخئیل کی بانہیں تجھ کو سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں تیرا الطاف و کرم ایک حقیقت ہے مگر یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو کون جانے مرے امروز کا فردا کیا ہے قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں میری درماندہ جوانی کی تمناؤں کے مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو میرا حاصل میری تقدیر بتا دے مجھ کو

نہ منہ چھپا کے جئے ہم نہ سر جھکا کے جئے ستم_گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے اب ایک رات اگر کم جئے تو کم ہی سہی یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جئے

جہاں جہاں تری نظروں کی اوس ٹپکی ہے وہاں وہاں سے ابھی تک غبار اٹھتا ہے جہاں جہاں ترے جلووں کے پھول بکھرے تھے وہاں وہاں دل_وحشی پکار اٹھتا ہے

ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی ہوتی ہے دلبروں کی عنایت کبھی کبھی شرما کے منہ نہ پھیر نظر کے سوال پر لاتی ہے ایسے موڑ پہ قسمت کبھی کبھی کھلتے نہیں ہیں روز دریچے بہار کے آتی ہے جان_من یہ قیامت کبھی کبھی تنہا نہ کٹ سکیں_گے جوانی کے راستے پیش آئے_گی کسی کی ضرورت کبھی کبھی پھر کھو نہ جائیں ہم کہیں دنیا کی بھیڑ میں ملتی ہے پاس آنے کی مہلت کبھی کبھی

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم_بد_حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی یہ بستی ہے مردہ_پرستوں کی بستی یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جوانی بھٹکتی ہے بد_کار بن کر جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

ویڈیو 47

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
بہت گھٹن ہے کوئی صورت_بیاں نکلے

ساحر لدھیانوی

کبھی کبھی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے ساحر لدھیانوی

آڈیو 37

تم اپنا رنج_و_غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ

اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • تنویر نقوی تنویر نقوی ہم عصر
  • سلام ؔمچھلی شہری سلام ؔمچھلی شہری ہم عصر
  • جگن ناتھ آزاد جگن ناتھ آزاد ہم عصر
  • اسرار الحق مجاز اسرار الحق مجاز ہم عصر
  • مخدومؔ محی الدین مخدومؔ محی الدین ہم عصر
  • مجروح سلطانپوری مجروح سلطانپوری ہم عصر
  • عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم ہم عصر
  • خلیل الرحمن اعظمی خلیل الرحمن اعظمی ہم عصر
  • کیفی اعظمی کیفی اعظمی ہم عصر
  • سجاد ظہیر سجاد ظہیر ہم عصر

"ممبئی" کے مزید شعرا

  • شکیل بدایونی شکیل بدایونی
  • گلزار گلزار
  • اختر الایمان اختر الایمان
  • علی سردار جعفری علی سردار جعفری
  • عبد الاحد ساز عبد الاحد ساز
  • کیفی اعظمی کیفی اعظمی
  • قیصر الجعفری قیصر الجعفری
  • ذاکر خان ذاکر ذاکر خان ذاکر
  • سوپنل تیواری سوپنل تیواری
  • راجیش ریڈی راجیش ریڈی