کبھی کبھی

ساحر لدھیانوی

کبھی کبھی

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    INTERESTING FACT

    فلم کبھی کبھی - 1976

    کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

    کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں

    گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی

    یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے

    تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی

    عجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کر

    ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا

    ترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں

    انہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتا

    پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی

    ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا

    حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں

    گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا

    مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے

    کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیں

    گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے

    اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں

    زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے

    گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے

    مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں

    حیات و موت کے پر ہول خارزاروں سے

    نہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ

    بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری

    انہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر

    میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یوں ہی

    کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    سمیر کھیرا

    سمیر کھیرا

    مکیش

    مکیش

    ساحر لدھیانوی

    ساحر لدھیانوی

    RECITATIONS

    حمیدہ بانو

    حمیدہ بانو

    حمیدہ بانو

    کبھی کبھی حمیدہ بانو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY