Sahir Ludhianvi's Photo'

ساحر لدھیانوی

1921 - 1980 | ممبئی, انڈیا

اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار

اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار

ساحر لدھیانوی کے اشعار

113.1K
Favorite

باعتبار

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو

کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے

چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں

وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں

میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست

سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے

کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم

اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں

تم نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دی

اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ

جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے

میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا

ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف

گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں

تم میرے لیے اب کوئی الزام نہ ڈھونڈو

چاہا تھا تمہیں اک یہی الزام بہت ہے

بے پئے ہی شراب سے نفرت

یہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہے

تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں

محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے

پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم

ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت

دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب

ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں

پھر کھو نہ جائیں ہم کہیں دنیا کی بھیڑ میں

ملتی ہے پاس آنے کی مہلت کبھی کبھی

ویسے تو تمہیں نے مجھے برباد کیا ہے

الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا

ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ

میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا

بربادیوں کا سوگ منانا فضول تھا

بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا

چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں

وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

تو مجھے چھوڑ کے ٹھکرا کے بھی جا سکتی ہے

تیرے ہاتھوں میں مرے ہاتھ ہیں زنجیر نہیں

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

جب تم سے محبت کی ہم نے تب جا کے کہیں یہ راز کھلا

مرنے کا سلیقہ آتے ہی جینے کا شعور آ جاتا ہے

مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے

کچھ خار کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا

جو کھو گیا میں اس کو بھلاتا چلا گیا

یوں ہی دل نے چاہا تھا رونا رلانا

تری یاد تو بن گئی اک بہانا

ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میں

کہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے

ارے او آسماں والے بتا اس میں برا کیا ہے

خوشی کے چار جھونکے گر ادھر سے بھی گزر جائیں

میرے خوابوں میں بھی تو میرے خیالوں میں بھی تو

کون سی چیز تجھے تجھ سے جدا پیش کروں

اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو

کیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلو

تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو

برباد کر دیا ترے دو دن کے پیار نے

کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے

ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے

پھر نہ کیجے مری گستاخ نگاہی کا گلا

دیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کو

ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں

اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی

کوئی تو ایسا گھر ہوتا جہاں سے پیار مل جاتا

وہی بیگانے چہرے ہیں جہاں جائیں جدھر جائیں

وفا شعار کئی ہیں کوئی حسیں بھی تو ہو

چلو پھر آج اسی بے وفا کی بات کریں

ہر ایک دور کا مذہب نیا خدا لایا

کریں تو ہم بھی مگر کس خدا کی بات کریں

لو آج ہم نے توڑ دیا رشتۂ امید

لو اب کبھی گلا نہ کریں گے کسی سے ہم

ہم جرم محبت کی سزا پائیں گے تنہا

جو تجھ سے ہوئی ہو وہ خطا ساتھ لیے جا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے