غم پر شاعری

غم زندگی میں ایک مستقل وجود کی حیثیت سے قائم ہے اس کے مقابلے میں خوشی کی حیثیت بہت عارضی ہے ۔ شاعری میں غمِ دوراں ، غمِ جاناں ، غمِ عشق ، غمِ روزگا جیسی ترکیبیں کثرت کے سا تھ استعمال میں آئی ہیں ۔ شاعری کا یہ حصہ دراصل زندگی کے سچ کا ایک تکلیف دہ بیانیہ ہے۔ ہمارا یہ انتخاب غم اوردکھ کے وسیع ترعلاقے کی ایک چھوٹی سی سیر ہے۔

آشوب اضطراب میں کھٹکا جو ہے تو یہ

غم تیرا مل نہ جائے غم روزگار میں

اقبال سہیل

اب کارگہ دہر میں لگتا ہے بہت دل

اے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے

مجروح سلطانپوری

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

شکیل بدایونی

اگر موجیں ڈبو دیتیں تو کچھ تسکین ہو جاتی

کناروں نے ڈبویا ہے مجھے اس بات کا غم ہے

دواکر راہی

اے غم زندگی نہ ہو ناراض

مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی

عبد الحمید عدم

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے

زندگی اک حسین سنگم ہے

علی جواد زیدی

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے

how do I hide the obvious, which from my face is clear

as you wish me to be seen, how do I thus appear

how do I hide the obvious, which from my face is clear

as you wish me to be seen, how do I thus appear

وسیم بریلوی

اشک غم دیدۂ پر نم سے سنبھالے نہ گئے

یہ وہ بچے ہیں جو ماں باپ سے پالے نہ گئے

میر انیس

بحر غم سے پار ہونے کے لیے

موت کو ساحل بنایا جائے گا

جلیل مانک پوری

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا

سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے

کلیم عاجز

بقدر ذوق میرے اشک غم کی ترجمانی ہے

کوئی کہتا ہے موتی ہے کوئی کہتا ہے پانی ہے

فگار اناوی

بے درد مجھ سے شرح غم زندگی نہ پوچھ

کافی ہے اس قدر کہ جیے جا رہا ہوں میں

ہادی مچھلی شہری

بھولے بسرے ہوئے غم پھر ابھر آتے ہیں کئی

آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی

فضیل جعفری

چنگاریاں نہ ڈال مرے دل کے گھاؤ میں

میں خود ہی جل رہا ہوں غموں کے الاؤ میں

سیف زلفی

درد و غم دل کی طبیعت بن گئے

اب یہاں آرام ہی آرام ہے

the heart is accustomed to sorrow and pain

in lasting comfort now I can remain

the heart is accustomed to sorrow and pain

in lasting comfort now I can remain

جگر مراد آبادی

دولت غم بھی خس و خاک زمانہ میں گئی

تم گئے ہو تو مہ و سال کہاں ٹھہرے ہیں

محمود ایاز

ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے

ایک غم سے بھی اسے دو چار کرنا ہے مجھے

غلام حسین ساجد

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے

اکبر حیدرآبادی

دل گیا رونق حیات گئی

غم گیا ساری کائنات گئی

جگر مراد آبادی

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے

ہوش ترمذی

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض احمد فیض

دکھ دے یا رسوائی دے

غم کو مرے گہرائی دے

سلیم احمد

اک اک قدم پہ رکھی ہے یوں زندگی کی لاج

غم کا بھی احترام کیا ہے خوشی کے ساتھ

کیفی بلگرامی

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت

یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

چراغ حسن حسرت

ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی

ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا

آزاد گلاٹی

فکر جہان درد محبت فراق یار

کیا کہئے کتنے غم ہیں مری زندگی کے ساتھ

اثر اکبرآبادی

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے

غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا

If sorrow's fatal, then tell me, how can this heart endure?

if love's sorrow would not be, life's sorrow would, for sure

If sorrow's fatal, then tell me, how can this heart endure?

if love's sorrow would not be, life's sorrow would, for sure

مرزا غالب

غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں

میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا

ساحر لدھیانوی

غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی

دیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا

اختر شیرانی

غم دے گیا نشاط شناسائی لے گیا

وہ اپنے ساتھ اپنی مسیحائی لے گیا

جنید حزیں لاری

غم ہے آوارہ اکیلے میں بھٹک جاتا ہے

جس جگہ رہئے وہاں ملتے ملاتے رہئے

ندا فاضلی

غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس

سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

خمارؔ بارہ بنکوی

غم کی دنیا رہے آباد شکیلؔ

مفلسی میں کوئی جاگیر تو ہے

شکیل بدایونی

غم کی تکمیل کا سامان ہوا ہے پیدا

لائق فخر مری بے سر و سامانی ہے

ہینسن ریحانی

غم کی توہین نہ کر غم کی شکایت کر کے

دل رہے یا نہ رہے عظمت غم رہنے دے

belittle not these sorrows, of them do not complain

their glory be preserved, tho heart may not remain

belittle not these sorrows, of them do not complain

their glory be preserved, tho heart may not remain

قمر مرادآبادی

غم میں ڈوبے ہی رہے دم نہ ہمارا نکلا

بحر ہستی کا بہت دور کنارا نکلا

بیخود دہلوی

غم میں کچھ غم کا مشغلا کیجے

درد کی درد سے دوا کیجے

منظر لکھنوی

غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے

کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے

you heap these sorrows onto me, why for other's sake?

For someone else, needlessly this blame why do you take?

you heap these sorrows onto me, why for other's sake?

For someone else, needlessly this blame why do you take?

ریاضؔ خیرآبادی

غم مجھے ناتوان رکھتا ہے

عشق بھی اک نشان رکھتا ہے

جرأت قلندر بخش

غم سے بکھرا نہ پائمال ہوا

میں تو غم سے ہی بے مثال ہوا

حسن نعیم

غم سے احساس کا آئینہ جلا پاتا ہے

اور غم سیکھے ہے آ کر یہ سلیقہ مجھ سے

جاوید وششٹ

غم سے ہم سوکھ جب ہوئے لکڑی

دوستی کا نہال ڈال کاٹ

آبرو شاہ مبارک

غم سے نازک ضبط غم کی بات ہے

یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا

فنا نظامی کانپوری

غم سے نسبت ہے جنہیں ضبط الم کرتے ہیں

اشک کو زینت داماں نہیں ہونے دیتے

ابرار کرتپوری

غم دل اب کسی کے بس کا نہیں

کیا دوا کیا دعا کرے کوئی

ہادی مچھلی شہری

غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

let love's longing with the ache of existence compound

when spirits intermingle the euphoria is profound

let love's longing with the ache of existence compound

when spirits intermingle the euphoria is profound

احمد فراز

غم حبیب نہیں کچھ غم جہاں سے الگ

یہ اہل درد نے کیا مسئلے اٹھائے ہیں

ابو محمد سحر

غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک

save death, Asad what else release from this life of pain?

a Lamp must burn in every hue till dawn is there again

save death, Asad what else release from this life of pain?

a Lamp must burn in every hue till dawn is there again

مرزا غالب

غم حیات و غم دوست کی کشاکش میں

ہم ایسے لوگ تو رنج و ملال سے بھی گئے

عزیز حامد مدنی

غم عشق ہی نے کاٹی غم عشق کی مصیبت

اسی موج نے ڈبویا اسی موج نے ابھارا

فاروق بانسپاری

Added to your favorites

Removed from your favorites