سکون پر شاعری

زندگی میں کی جانے والی ساری جستجو کا آخری اور وسیع تر ہدف سکون ہی ہوتا ہے لیکن سکون ایک عارضی کیفیت ہے۔ایک لمحے کو سکون ملتا بھی ہےتو ختم ہو جاتا ہےاسی لئے اس کی تلاش کا عمل بھی مستقل جاری رہتا ہے ۔ ہم نے جن شعروں کا انتخاب کیا ہے وہ ایک گہرے اضطراب اور کشمکش کے پیدا کئے ہوئے ہیں آپ انہیں پڑھئے اور زندگی کی بے نقاب حقیقتوں کا مشاہدہ کیجئے ۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

sorrows other than love's longing does this life provide

comforts other than a lover's union too abide

sorrows other than love's longing does this life provide

comforts other than a lover's union too abide

فیض احمد فیض

قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا

وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا

جمال احسانی

نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں

ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے

کلیم عاجز

ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل

اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

آزاد انصاری

مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ

کوئی آفت ادھر نہیں آتی

عبد الحمید عدم

نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے

تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے

نقش لائل پوری

غم ہے تو کوئی لطف نہیں بستر گل پر

جی خوش ہے تو کانٹوں پہ بھی آرام بہت ہے

کلیم عاجز

سکون دے نہ سکیں راحتیں زمانے کی

جو نیند آئی ترے غم کی چھاؤں میں آئی

پیام فتحپوری

دل کی ضد اس لئے رکھ لی تھی کہ آ جائے قرار

کل یہ کچھ اور کہے گا مجھے معلوم نہ تھا

آرزو لکھنوی

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا

وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا

فاطمہ حسن

یہ کس عذاب میں چھوڑا ہے تو نے اس دل کو

سکون یاد میں تیری نہ بھولنے میں قرار

شہرت بخاری

بڑے سکون سے افسردگی میں رہتا ہوں

میں اپنے سامنے والی گلی میں رہتا ہوں

عابد ملک

ملا نہ گھر سے نکل کر بھی چین اے زاہدؔ

کھلی فضا میں وہی زہر تھا جو گھر میں تھا

ابو المجاہد زاہد

کسے خبر کہ اہل غم سکون کی تلاش میں

شراب کی طرف گئے شراب کے لیے نہیں

محبوب خزاں

کس نے پایا سکون دنیا میں

زندگانی کا سامنا کر کے

راجیش ریڈی

منزل پہ بھی پہنچ کے میسر نہیں سکوں

مجبور اس قدر ہیں شعور سفر سے ہم

کرامت علی کرامت

سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والے

یہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتا

جگن ناتھ آزاد