ترغیبی شعر

ترغیبی شاعری زندگی کی مشکل گھڑیوں میں ایک سہارے کےطور پرسامنےآتی ہے اوراسے پڑھ کرایک حوصلہ ملتا ہے ۔ یہ مشکل گھڑیاں عشق میں ہجرکی بھی ہوسکتی ہیں اورعام زندگی سے متعلق بھی ۔ یہ شاعری زندگی کے ان تمام مراحل سے گزرنے اورایک روشنی دریافت کرلینے کی قوت پیدا کرتی ہے۔

آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیے

گلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیے

جگر مراد آبادی

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

علامہ اقبال

آستاں بھی کوئی مل جائے گا اے ذوق نیاز

سر سلامت ہے تو سجدہ بھی ادا ہو جائے گا

جگر بریلوی

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

the winds will now decide what happens to the light

those lamps that have the strength, will survive the night

the winds will now decide what happens to the light

those lamps that have the strength, will survive the night

محشر بدایونی

ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو

ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے

اعجاز رحمانی

اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے

کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں

معین احسن جذبی

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر

آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

save trouble, in formality, zauq nothing else can be

at ease he then remains he who, eschews formality

save trouble, in formality, zauq nothing else can be

at ease he then remains he who, eschews formality

شیخ ابراہیم ذوقؔ

اخترؔ گزرتے لمحوں کی آہٹ پہ یوں نہ چونک

اس ماتمی جلوس میں اک زندگی بھی ہے

اختر ہوشیارپوری

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

جگر مراد آبادی

عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی

علامہ اقبال

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

sorrows other than love's longing does this life provide

comforts other than a lover's union too abide

sorrows other than love's longing does this life provide

comforts other than a lover's union too abide

فیض احمد فیض

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو

چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

let the hands of innocents reach out for stars and moon

with education they'd become like us so very soon

let the hands of innocents reach out for stars and moon

with education they'd become like us so very soon

ندا فاضلی

بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی

ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا

عبد الحمید عدم

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

میر تقی میر

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو

کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

رضا ہمدانی

چاہئے خود پہ یقین کامل

حوصلہ کس کا بڑھاتا ہے کوئی

شکیل بدایونی

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے

اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

I go laughing playing with waves of adversity

If life were to be easy, unbearable it would be

I go laughing playing with waves of adversity

If life were to be easy, unbearable it would be

اصغر گونڈوی

چلے چلیے کہ چلنا ہی دلیل کامرانی ہے

جو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پا نہیں سکتے

حفیظ بنارسی

چراغ راہ گزر لاکھ تابناک سہی

جلا کے اپنا دیا روشنی مکان میں لا

اکبر حیدرآبادی

دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ

بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی

بہادر شاہ ظفر

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

مجروح سلطانپوری

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

seek ye pearls of faithfulness in those lost and drowned

it well could be these treasures in wastelands do abound

seek ye pearls of faithfulness in those lost and drowned

it well could be these treasures in wastelands do abound

احمد فراز

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

ندا فاضلی

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض احمد فیض

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

bear enmity with all your might, but this we should decide

if ever we be friends again, we are not mortified

bear enmity with all your might, but this we should decide

if ever we be friends again, we are not mortified

بشیر بدر

دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم

تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

بشیر بدر

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

enmity however strong, the contact never break

hearts and minds may be apart, the hands must ever shake

enmity however strong, the contact never break

hearts and minds may be apart, the hands must ever shake

ندا فاضلی

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

ابو المجاہد زاہد

فراغت سے دنیا میں ہر دم نہ بیٹھو

اگر چاہتے ہو فراغت زیادہ

الطاف حسین حالی

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

the mosques too far so for a while

some weeping child, let us make smile

the mosques too far so for a while

some weeping child, let us make smile

ندا فاضلی

غریبی امیری ہے قسمت کا سودا

ملو آدمی کی طرح آدمی سے

حیرت گونڈوی

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

علامہ اقبال

گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو

منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر

نور قریشی

گمشدگی ہی اصل میں یارو راہ نمائی کرتی ہے

راہ دکھانے والے پہلے برسوں راہ بھٹکتے ہیں

حفیظ بنارسی

حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولی

نہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانی

حفیظ جالندھری

ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ

ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

عرش صدیقی

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے

کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے

ندا فاضلی

ہرمصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب

اس طرح گردش دوراں کو رلایا میں نے

فانی بدایونی

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو

چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

مخدومؔ محی الدین

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں

وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

ساحر لدھیانوی

ہو نہ مایوس خدا سے بسملؔ

یہ برے دن بھی گزر جائیں گے

بسملؔ  عظیم آبادی

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

We will nourish the pen and tablet; we will tend them ever

We will write what the heart suffers; we will defend them ever

We will nourish the pen and tablet; we will tend them ever

We will write what the heart suffers; we will defend them ever

فیض احمد فیض

ان اندھیروں سے پرے اس شب غم سے آگے

اک نئی صبح بھی ہے شام الم سے آگے

عشرت قادری

انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا

اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے

اختر شیرانی

اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو

ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

disheartened or shortsighted O heart you need not be

this night of sorrow surely will a dawn tomorrow see

disheartened or shortsighted O heart you need not be

this night of sorrow surely will a dawn tomorrow see

نریش کمار شاد

اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھے

روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا

ندا فاضلی

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ

خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ

انور شعور

جادہ جادہ چھوڑ جاؤ اپنی یادوں کے نقوش

آنے والے کارواں کے رہنما بن کر چلو

نامعلوم

جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگائے ہیں سب کے

اسی مقام سے اب اپنا راستا ہوگا

عابد ادیب

Added to your favorites

Removed from your favorites