ADVERTISEMENT

تعلق پر اشعار

ہم تعلق کی ان ہی صورتوں

اورکیفیتوں سے واقف ہوتے ہیں جن سے ہم گزرتےہیں ۔ جب کہ ہرانسان کے تعلقات اوراس کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں ، ہم ان کی کہانیاں سن سکتے ہیں لیکن ان کے تجربے میں شریک نہیں ہوسکتے ۔ شاعری اظہارکا وہ ذریعہ ہے جس کی بنا پرہم دوسروں کےتجربات کوبھی ذاتی تجربےکی سطح پرمحسوس کرسکتےہیں ۔ ہم نے تعلق اوررشتوں کی ان کہانیوں کواسی لئے اکھٹا کیا ہے تا کہ آپ تعلق اوراس کی مختلف صورتوں کی اس کثرت میں شامل ہو سکیں ۔

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

ندا فاضلی

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا

تالوں کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا

اظہر فراغ

مری طرف سے تو ٹوٹا نہیں کوئی رشتہ

کسی نے توڑ دیا اعتبار ٹوٹ گیا

اختر نظمی

بوسے بیوی کے ہنسی بچوں کی آنکھیں ماں کی

قید خانے میں گرفتار سمجھئے ہم کو

فضیل جعفری
ADVERTISEMENT

مجھے منظور گر ترک تعلق ہے رضا تیری

مگر ٹوٹے گا رشتہ درد کا آہستہ آہستہ

احمد ندیم قاسمی

چلو کہیں پہ تعلق کی کوئی شکل تو ہو

کسی کے دل میں کسی کی کمی غنیمت ہے

آفتاب حسین

سرحدیں روک نہ پائیں گی کبھی رشتوں کو

خوشبوؤں پر نہ کبھی کوئی بھی پہرا نکلا

نامعلوم

تعلق کرچیوں کی شکل میں بکھرا تو ہے پھر بھی

شکستہ آئینوں کو جوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

اعتبار ساجد
ADVERTISEMENT