درد پر شاعری

کلاسیکی شاعری میں درد دل کا درد ہے جو عشق میں حاصل ہوتا ہے اور یہی عاشق کا سرمائے بھی ہے ۔ عمر بھر درد دل کی حفاظت ہی اس کا مقدر ہوتا ہے وہ اسے آہوں اور آنسووں سے سینچتا رہتا ہے۔ درد کا یہ پراثر بیانیہ شاعری میں دور تک پھیلا ہوا ہے۔ جدید شاعری میں درد کے اور بہت سے محرکات ابھر کرسامنے آئے ہیں۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور درد کی ان صورتوں کو اپنے ذاتی حوالوں سے شناخت کیجئے۔

عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزا

ہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

آج تو دل کے درد پر ہنس کر

درد کا دل دکھا دیا میں نے

زبیر علی تابش

آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئی

لب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہوا

ابن انشا

آنے والی ہے کیا بلا سر پر

آج پھر دل میں درد ہے کم کم

جوشؔ ملسیانی

اب کے سفر میں درد کے پہلو عجیب ہیں

جو لوگ ہم خیال نہ تھے ہم سفر ہوئے

خلیل تنویر

اب مرا درد مری جان ہوا جاتا ہے

اے مرے چارہ گرو اب مجھے اچھا نہ کرو

شہزاد احمد

اب مری بات جو مانے تو نہ لے عشق کا نام

تو نے دکھ اے دل ناکام بہت سا پایا

مصحفی غلام ہمدانی

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

شکیل بدایونی

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں

کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا

نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا

چکبست برج نرائن

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

Love your sad conclusion makes me weep

Wonder why your mention makes me weep

Love your sad conclusion makes me weep

Wonder why your mention makes me weep

شکیل بدایونی

ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لا دوا

ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

it should not be that this ache intensifies past remedy

it should not happen even you do not have a cure for me

it should not be that this ache intensifies past remedy

it should not happen even you do not have a cure for me

صوفی تبسم

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا

جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا

ندا فاضلی

بھیگی مٹی کی مہک پیاس بڑھا دیتی ہے

درد برسات کی بوندوں میں بسا کرتا ہے

مرغوب علی

بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے

وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے

آسی غازی پوری

دم بہ دم اٹھتی ہیں کس یاد کی لہریں دل میں

درد رہ رہ کے یہ کروٹ سی بدلتا کیا ہے

جمال پانی پتی

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

کلیم عاجز

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

زندگی بے مزا نہ ہو جائے

علیم اختر

درد بکتا نہیں بازار جہاں میں ورنہ

جان تک بیچ کے لیتا میں ترے دل کے لئے

جلیل مانک پوری

درد ہو دل میں تو دوا کیجے

اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے

منظر لکھنوی

درد ہو دکھ ہو تو دوا کیجے

پھٹ پڑے آسماں تو کیا کیجے

جگر بریلوی

درد کا پھر مزہ ہے جب اخترؔ

درد خود چارہ ساز ہو جائے

علیم اختر

درد کا ذائقہ بتاؤں کیا

یہ علاقہ زباں سے باہر ہے

خورشید اکبر

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی

موت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

درد معراج کو پہنچتا ہے

جب کوئی ترجماں نہیں ملتا

عرش ملسیانی

درد و غم دل کی طبیعت بن گئے

اب یہاں آرام ہی آرام ہے

the heart is accustomed to sorrow and pain

in lasting comfort now I can remain

the heart is accustomed to sorrow and pain

in lasting comfort now I can remain

جگر مراد آبادی
  • موضوعات: دل
    اور 1 مزید

درد تو میرے پاس سے مرتے تلک نہ جائیو

طاقت صبر ہو نہ ہو تاب و قرار ہو نہ ہو

شیخ ظہور الدین حاتم

درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا

آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی

غلام بھیک نیرنگ

درد دل کی انہیں خبر کیا ہو

جانتا کون ہے پرائی چوٹ

فانی بدایونی

درد دل کتنا پسند آیا اسے

میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

آسی غازی پوری

درد دل کیا بیاں کروں رشکیؔ

اس کو کب اعتبار آتا ہے

محمد علی خاں رشکی

درد دل پہلے تو وہ سنتے نہ تھے

اب یہ کہتے ہیں ذرا آواز سے

جلیل مانک پوری

درد دل سے اٹھا نہیں جاتا

جب سے وہ ہاتھ رکھ گئے دل پر

جلیل مانک پوری

درد سر ہے خمار سے مجھ کو

جلد لے کر شراب آ ساقی

تاباں عبد الحی

دیدہ و دل نے درد کی اپنے بات بھی کی تو کس سے کی

وہ تو درد کا بانی ٹھہرا وہ کیا درد بٹائے گا

ابن انشا

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو

ابن انشا

دل کا سارا درد سمٹ آیا ہے میری پلکوں میں

کتنے تاج محل ڈوبیں گے پانی کی ان بوندوں میں

وحید عرشی

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے

ہوش ترمذی
  • موضوعات: دل
    اور 1 مزید

دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے

بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا

وزیر علی صبا لکھنؤی

دل میں لیتا ہے چٹکیاں کوئی

ہائے اس درد کی دوا کیا ہے

اختر شیرانی

دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے

یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشہ کا دستور نہیں

عندلیب شادانی

دل سراپا درد تھا وہ ابتدائے عشق تھی

انتہا یہ ہے کہ فانیؔ درد اب دل ہو گیا

فانی بدایونی

دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب

میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

may my friends too receive this wealth of pain

I cannot envisage my solitary gain

may my friends too receive this wealth of pain

I cannot envisage my solitary gain

حفیظ جالندھری

دکھ دے یا رسوائی دے

غم کو مرے گہرائی دے

سلیم احمد

دشمن جاں ہی سہی ساتھ تو اک عمر کا ہے

دل سے اب درد کی رخصت نہیں دیکھی جاتی

اختر سعید خان

اک درد ہو بس آٹھ پہر دل میں کہ جس کو

تخفیف دوا سے ہو نہ تسکین دعا سے

الطاف حسین حالی

اک درد محبت ہے کہ جاتا نہیں ورنہ

جس درد کی ڈھونڈے کوئی دنیا میں دوا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

ایک دل ہے کہ نہیں درد سے دم بھر خالی

ورنہ کیا کیا نظر آئے نہ بھرے گھر خالی

جلیل مانک پوری

ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی

درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے نکلے

سید حامد

اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے

اے چارہ گرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

احمد فراز

Added to your favorites

Removed from your favorites