Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ماضی پر اشعار

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی

کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ زندگی کے دن تو جیسے تیسے کٹ ہی رہے تھے اور ختم ہو جاتے۔ محبوب کے راستے کی یاد نے آ کر دل میں پرانی ٹیس بیدار کر دی، جس پر شاعر شکوہ کر رہا ہے کہ اب اس یاد کا کیا فائدہ جب زندگی ویسے بھی گزر ہی رہی تھی۔

مرزا غالب

مجھ کو اب کیسے پا سکے گا کوئی

وقت تھا اور گزر گیا ہوں میں

شارق جمال
بولیے