زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ زندگی کے دن تو جیسے تیسے کٹ ہی رہے تھے اور ختم ہو جاتے۔ محبوب کے راستے کی یاد نے آ کر دل میں پرانی ٹیس بیدار کر دی، جس پر شاعر شکوہ کر رہا ہے کہ اب اس یاد کا کیا فائدہ جب زندگی ویسے بھی گزر ہی رہی تھی۔
-
موضوعات : درداور 1 مزید