Kaleem Aajiz's Photo'

کلیم عاجز

1926 - 2015 | پٹنہ, انڈیا

کلاسیکی لہجے کےلئے ممتاز اور مقبول شاعر

کلاسیکی لہجے کےلئے ممتاز اور مقبول شاعر

کلیم عاجز

غزل 56

نظم 1

 

اشعار 66

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں

ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے

ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی

مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں

چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

کتاب 15

تصویری شاعری 7

 

ویڈیو 17

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

کلیم عاجز

کلیم عاجز

کلیم عاجز

کلیم عاجز

کلیم عاجز

کلیم عاجز

Mushaira ba-aizaaz kaleem ajiz

کلیم عاجز

شانے کا بہت خون_جگر جائے ہے پیارے

کلیم عاجز

مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیں

کلیم عاجز

مرا حال پوچھ کے ہم_نشیں مرے سوز_دل کو ہوا نہ دے

کلیم عاجز

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟

کلیم عاجز

کس ناز کس انداز سے تم ہائے چلو ہو

کلیم عاجز

کیا غم ہے اگر شکوۂ_غم عام ہے پیارے

کلیم عاجز

یہ آنسو بے_سبب جاری نہیں ہے

کلیم عاجز

یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں_گے

کلیم عاجز

یہی بیکسی تھی تمام شب اسی بیکسی میں سحر ہوئی

کلیم عاجز

متعلقہ شعرا

"پٹنہ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے