کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے

کلیم عاجز

کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے

کلیم عاجز

MORE BY کلیم عاجز

    کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے

    اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

    لوگ اپنے در و دیوار سے ہوشیار رہیں

    آج دیوانے کا گھر جانے کو جی چاہے ہے

    درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

    زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

    دل کو زخموں کے سوا کچھ نہ دیا پھولوں نے

    اب تو کانٹوں میں اتر جانے کو جی چاہے ہے

    چھاؤں وعدوں کی ہے بس دھوکا ہی دھوکا اے دل

    مت ٹھہر گرچہ ٹھہر جانے کو جی چاہے ہے

    زندگی میں ہے وہ الجھن کہ پریشاں ہو کر

    زلف کی طرح بکھر جانے کو جی چاہے ہے

    قتل کرنے کی ادا بھی حسیں قاتل بھی حسیں

    نہ بھی مرنا ہو تو مر جانے کو جی چاہے ہے

    جی یہ چاہے ہے کہ پوچھوں کبھی ان زلفوں سے

    کیا تمہارا بھی سنور جانے کو جی چاہے ہے

    رسن و دار ادھر کاکل و رخسار ادھر

    دل بتا تیرا کدھر جانے کو جی چاہے ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Jab Fasl-e-baharn aai thi (Pg. 233)
    • Author : padm Shri Dr. Kaleem Ahmed Aajiz
    • مطبع : Sunrise Plastic Works, Patna (1990)
    • اشاعت : 1990

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY