زندگی پر شاعری

ایک تخلیق کار زندگی کو جتنے زاویوں اور جتنی صورتوں میں دیکھتا ہے وہ ایک عام شخص کے دائرے سے باہر ہوتا ہے ۔ زندگی کے حسن اور اس کی بد صورتی کا جو ایک گہرا تجزیہ شعر وادب میں ملتا ہے اس کا اندازہ ہمارے اس چھوٹے سے انتخاب سےلگایا جاسکتا ہے ۔ زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے اس میں بہت پیچ ہیں اور اس کے رنگ بہت متنوع ہیں ۔ وہ بہت ہمدرد بھی ہے اور اپنی بعض صورتوں میں بہت سفاک بھی ۔ زندگی کی اس کہانی کو آپ ریختہ پر پڑھئے ۔

آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے

زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے

حیدر علی جعفری

آخر اک روز تو پیوند زمیں ہونا ہے

جامۂ زیست نیا اور پرانا کیسا

لالہ مادھو رام جوہر

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں

اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

جون ایلیا

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

شکیل بدایونی

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

فریاد آزر

اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی

زندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئی

گنیش بہاری طرز

اے عدم کے مسافرو ہشیار

راہ میں زندگی کھڑی ہوگی

ساغر صدیقی

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے

زندگی اک حسین سنگم ہے

علی جواد زیدی

عجب طرح سے گزاری ہے زندگی ہم نے

جہاں میں رہ کے نہ کار جہاں کو پہچانا

وزیر آغا

بڑا گھاٹے کا سودا ہے صداؔ یہ سانس لینا بھی

بڑھے ہے عمر جیوں جیوں زندگی کم ہوتی جاتی ہے

صدا انبالوی

بڑی تلاش سے ملتی ہے زندگی اے دوست

قضا کی طرح پتا پوچھتی نہیں آتی

شان الحق حقی

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے

ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

مجروح سلطانپوری

بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ

کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے

عباس رضوی

بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر

وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے

جگر مراد آبادی

بہت قریب رہی ہے یہ زندگی ہم سے

بہت عزیز سہی اعتبار کچھ بھی نہیں

اختر سعید خان

بندھن سا اک بندھا تھا رگ و پے سے جسم میں

مرنے کے بعد ہاتھ سے موتی بکھر گئے

بشیر الدین احمد دہلوی

بے تعلق زندگی اچھی نہیں

زندگی کیا موت بھی اچھی نہیں

حفیظ جالندھری

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

کلیم عاجز

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

زندگی بے مزا نہ ہو جائے

علیم اختر

درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا

آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی

غلام بھیک نیرنگ

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے

چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

ساحر لدھیانوی

دھوپ کی سختی تو تھی لیکن فرازؔ

زندگی میں پھر بھی تھا سایہ بہت

فراز سلطانپوری

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

ندا فاضلی

دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی

اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

اختر شیرانی

اک اک قدم پہ رکھی ہے یوں زندگی کی لاج

غم کا بھی احترام کیا ہے خوشی کے ساتھ

کیفی بلگرامی

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

فانی بدایونی

ایک مشت خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے

زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا

پروین شاکر

اک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی

اس ایک مشت خاک کو غم دو جہاں کے ہیں

چکبست برج نرائن

ایک سیتا کی رفاقت ہے تو سب کچھ پاس ہے

زندگی کہتے ہیں جس کو رام کا بن باس ہے

حفیظ بنارسی

اک زندگی عمل کے لیے بھی نصیب ہو

یہ زندگی تو نیک ارادوں میں کٹ گئی

خلیل قدوائی

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے

وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

جون ایلیا

گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے

پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم

ساحر لدھیانوی

غم و الم سے جو تعبیر کی خوشی میں نے

بہت قریب سے دیکھی ہے زندگی میں نے

فگار اناوی

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست

وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں

فراق گورکھپوری

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

صفی لکھنوی

گزر رہی تھی زندگی گزر رہی ہے زندگی

نشیب کے بغیر بھی فراز کے بغیر بھی

جاوید صبا

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے

بشیر بدر

ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی

بھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ

بیدم شاہ وارثی

ہر ایک کام ہے دھوکہ ہر ایک کام ہے کھیل

کہ زندگی میں تماشا بہت ضروری ہے

خلیل مامون

ہر نفس اک شراب کا ہو گھونٹ

زندگانی حرام ہے ورنہ

آرزو لکھنوی

ہر نفس منت کش آلام ہے

زندگی شاید اسی کا نام ہے

اکبر حیدری

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

فانی بدایونی

حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر میں

جو زندگی کو جیت لے وہ زندگی کا مرد ہے

بشیر بدر

حیات لاکھ ہو فانی مگر یہ سن رکھئے

حیات سے جو ہے مقصود غیر فانی ہے

کالی داس گپتا رضا

ہچکیوں پر ہو رہا ہے زندگی کا راگ ختم

جھٹکے دے کر تار توڑے جا رہے ہیں ساز کے

ناطق گلاوٹھی

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے

عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

ندا فاضلی

ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت

دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم

ساحر لدھیانوی

ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی

جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے

محشر بدایونی

ہم لوگ تو مرتے رہے قسطوں میں ہمیشہ

پھر بھی ہمیں جینے کا ہنر کیوں نہیں آیا

ظفر اقبال ظفر

اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے

سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی

عبد الحمید عدم

Added to your favorites

Removed from your favorites