زندگی پر شاعری

ایک تخلیق کار زندگی کو جتنے زاویوں اور جتنی صورتوں میں دیکھتا ہے وہ ایک عام شخص کے دائرے سے باہر ہوتا ہے ۔ زندگی کے حسن اور اس کی بد صورتی کا جو ایک گہرا تجزیہ شعر وادب میں ملتا ہے اس کا اندازہ ہمارے اس چھوٹے سے انتخاب سےلگایا جاسکتا ہے ۔ زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے اس میں بہت پیچ ہیں اور اس کے رنگ بہت متنوع ہیں ۔ وہ بہت ہمدرد بھی ہے اور اپنی بعض صورتوں میں بہت سفاک بھی ۔ زندگی کی اس کہانی کو آپ ریختہ پر پڑھئے ۔

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

جون ایلیا

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

بشیر بدر

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے

عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

ندا فاضلی

زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ

زندگی کس طرح بسر ہوگی

دل نہیں لگ رہا محبت میں

جون ایلیا

موت کا بھی علاج ہو شاید

زندگی کا کوئی علاج نہیں

for death a cure there well may be

but for this life no remedy

فراق گورکھپوری

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

سیماب اکبرآبادی

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں

زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

خواجہ میر درد

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

ندا فاضلی

زندگی شاید اسی کا نام ہے

دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

کیف بھوپالی

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے

چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

ساحر لدھیانوی

تم محبت کو کھیل کہتے ہو

ہم نے برباد زندگی کر لی

بشیر بدر

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

فیض احمد فیض

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

شکیل بدایونی

یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں

زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے

خلیل الرحمن اعظمی

اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ

جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے

ساحر لدھیانوی

زندگی ایک فن ہے لمحوں کو

اپنے انداز سے گنوانے کا

جون ایلیا

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست

وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں

فراق گورکھپوری

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

چکبست برج نرائن

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں

اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

جون ایلیا

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے

کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم

ساحر لدھیانوی

تو کہانی ہی کے پردے میں بھلی لگتی ہے

زندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی

اختر سعید خان

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

کلیم عاجز

کوئی خاموش زخم لگتی ہے

زندگی ایک نظم لگتی ہے

گلزار

میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا

ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا

ساحر لدھیانوی

کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں

زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ

فراق گورکھپوری

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

فانی بدایونی

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

فانی بدایونی

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

خواجہ میر درد

کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسے

تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا

احمد فراز

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں

انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

ندا فاضلی

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے

وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

جون ایلیا

زندگی کیا ہے آج اسے اے دوست

سوچ لیں اور اداس ہو جائیں

فراق گورکھپوری

جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں

خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

نظیر صدیقی

مجھے زندگی کی دعا دینے والے

ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر

گوپال متل

زندگی کیا ہے اک کہانی ہے

یہ کہانی نہیں سنانی ہے

جون ایلیا

ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت

دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم

ساحر لدھیانوی

یہ مانا زندگی ہے چار دن کی

بہت ہوتے ہیں یارو چار دن بھی

فراق گورکھپوری

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

میر تقی میر

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے

بشیر بدر

گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے

پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم

ساحر لدھیانوی

زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔ

یہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائے

عبرت مچھلی شہری

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے

مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

جگر مراد آبادی

یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر

جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

زندگی جب عذاب ہوتی ہے

عاشقی کامیاب ہوتی ہے

دشینت کمار

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں

prison of life and sorrow's chains in truth are just the same

then relief from pain, ere death,why should man obtain

مرزا غالب

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے

ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

مجروح سلطانپوری

کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو

کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

عادل منصوری

کچھ دن سے زندگی مجھے پہچانتی نہیں

یوں دیکھتی ہے جیسے مجھے جانتی نہیں

انجم رہبر

موت ہی انسان کی دشمن نہیں

زندگی بھی جان لے کر جائے گی

عرش ملسیانی